خطبہ خطبہ : 2

خطبہ (2) : بعثت سے قبل عرب کی حالت ، اہل بیت کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت (2- عرب قبل از بعثت، اہل بیتؑ کی فضیلت اور ایک جماعت کی منقصت)

خطبہ (۲)
صفین سے پلٹنے کے بعد فرمایا
اللہ کی حمد و ثنا کرتا ہوں، اس کی نعمتوں کی تکمیل چاہنے، اس کی عزت و جلال کے آگے سر جھکانے اور اس کی معصیت سے حفاظت حاصل کرنے کیلئے اور اس سے مدد مانگتا ہوں اس کی کفایت و دستگیری کا محتاج ہونے کی وجہ سے۔ جسے وہ ہدایت کرے وہ گمراہ نہیں ہوتا، جسے وہ دشمن رکھے اسے کوئی ٹھکانا نہیں ملتا، جس کا وہ کفیل ہو وہ کسی کا محتاج نہیں رہتا۔ یہ (حمد اور طلب ِامداد) وہ ہے جس کا ہر وزن میں آنے والی چیز سے پلہ بھاری ہے اور ہر گنجِ گراں مایہ سے بہتر و برتر ہے۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو یکتا و لاشریک ہے، ایسی گواہی جس کا خلوص پرکھا جا چکا ہے اور جس کا نچوڑ بغیر کسی شائبہ کے دل کا عقیدہ بن چکا ہے، زندگی بھر ہم اسی سے وابستہ رہیں گے اور اسی کو پیش آنے والے خطرات کیلئے ذخیرہ بنا کر رکھیں گے، یہی گواہی ایمان کی مضبوط بنیاد اور حسنِ عمل کا پہلا قدم اور اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ اور شیطان کی دوری کا سبب ہے۔
اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اس کے عبد اور رسول ہیں، جنہیں شہرت یافتہ دین، منقول شدہ نشان، لکھی ہوئی کتاب [۱] ، ضوفشاں نور، چمکتی ہوئی روشنی اور فیصلہ کن امر کے ساتھ بھیجا، تاکہ شکوک و شبہات کا ازالہ کیا جائے اور دلائل (کے زور) سے حجت تمام کی جائے، آیتوں کے ذریعے ڈرایا جائے اور عقوبتوں سے خوف زدہ کیا جائے۔
(اس وقت حالت یہ تھی کہ) لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جہاں دین کے بندھن شکستہ، یقین کے ستون متزلزل، اصول مختلف اور حالات پراگندہ تھے، نکلنے کی راہیں تنگ و تار تھیں، ہدایت گمنام اور ضلالت ہمہ گیر تھی۔ (کھلے خزانوں) اللہ کی مخالفت ہوتی تھی اور شیطان کو مدد دی جا رہی تھی، ایمان بے سہارا تھا، چنانچہ اس کے ستون گر گئے، اس کے نشان تک پہچاننے میں نہ آتے تھے، اس کے راستے مٹ مٹا گئے، اور شاہرا ہیں اجڑ گئیں۔
وہ شیطان کے پیچھے لگ کر اس کی راہوں پر چلنے لگے اور اس کے گھاٹ پر اتر پڑے، انہی کی وجہ سے اس کے پھریرے ہر طرف لہرانے لگے تھے، ایسے فتنوں میں جو انہیں اپنے سموں سے روندتے اور اپنے کُھروں سے کچلتے تھے اور اپنے پنجوں کے بَل مضبوطی سے کھڑے ہوئے تھے۔ تو وہ لوگ ان میں حیران و سرگرداں، جاہل و فریب خوردہ تھے، ایک ایسے گھر میں جو خود اچھا [۲] ، مگر اس کے بسنے والے برے تھے، جہاں نیند کے بجائے بیداری اور سرمے کی جگہ آنسو تھے۔ اس سر زمین پر عالم کے منہ میں لگام تھی اور جاہل معزز و سرفراز تھا۔
[اسی خطبہ کا ایک حصہ جو اہل بیت نبی علیہم السلام سے متعلق ہے]
وہ سرِ خدا کے امین اور اس کے دین کی پناہ گاہ ہیں، علمِ الٰہی کے مخزن اور حکمتوں کے مرجع ہیں، کتب (آسمانی) کی گھاٹیاں اور دین کے پہاڑ ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ نے اس کی پشت کا خم سیدھا کیا اور اس کے پہلوؤں سے ضعف کی کپکپی دور کی۔
[اسی خطبہ کا ایک حصہ جو دوسروں سے متعلق ہے]
انہوں نے فسق و فجور کی کاشت کی، غفلت و فریب کے پانی سے اسے سینچا اور اس سے ہلاکت کی جنس حاصل کی۔
اس اُمت میں کسی کو آلِ محمد علیہم السلام پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے۔ وہ دین کی بنیاد اور یقین کے ستون ہیں۔ آگے بڑھ جانے والے کو ان کی طرف پلٹ کر آنا ہے اور پیچھے رہ جانے والے کو ان سے آ کر ملنا ہے۔ حق ولایت کی خصوصیات انہی کیلئے ہیں اور انہی [۳] کے بارے میں (پیغمبرؐ کی) وصیت اور انہی کیلئے (نبیؐ کی) وراثت ہے۔ اب یہ وقت وہ ہے کہ حق اپنے اہل کی طرف پلٹ آیا اور اپنی صحیح جگہ پر منتقل ہو گیا۔