حکمت

483 اندراجات
حکمت (339) :  اصابتِ رائے اقبال و دولت سے وابستہ ہے اگر یہ ہے تو وہ بھی ہوتی ہے اور اگر یہ نہیں تو وہ بھی نہیں ہوتی۔ (339- اِقبال و اِدبار) حکمت حکمت 339

حکمت (339) : اصابتِ رائے اقبال و دولت سے وابستہ ہے اگر یہ ہے تو وہ بھی ہوتی ہے اور اگر یہ نہیں تو وہ بھی نہیں ہوتی۔ (339- اِقبال و اِدبار)

اصابتِ رائے اقبال و دولت سے وابستہ ہے اگر یہ ہے تو وہ بھی ہوتی ہے اور اگر یہ نہیں…

مزید پڑھیے
حکمت (355) :  حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمارت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔ چاندی کے سکوں نے سر نکالا ہے۔ بلاشبہ یہ عمارت تمہاری ثروت کی غمازی کرتی ہے۔ (355- دولت کے آثار) حکمت حکمت 355

حکمت (355) : حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمارت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔ چاندی کے سکوں نے سر نکالا ہے۔ بلاشبہ یہ عمارت تمہاری ثروت کی غمازی کرتی ہے۔ (355- دولت کے آثار)

حضرت کے عمال میں سے ایک شخص نے ایک بلند عمارت تعمیر کی جس پر آپ نے فرمایا۔

مزید پڑھیے
حکمت (340) :  فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔ (340- عفت و شکر) حکمت حکمت 340

حکمت (340) : فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔ (340- عفت و شکر)

فقر کی زینت پاکدامنی اور تونگری کی زینت شکر ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (356) :  حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو اس کی روزی کدھر سے آئے گی؟ فرمایا
جدھر سے اس کی موت آئے گی۔ (356- رزق رسانی) حکمت حکمت 356

حکمت (356) : حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے تو اس کی روزی کدھر سے آئے گی؟ فرمایا جدھر سے اس کی موت آئے گی۔ (356- رزق رسانی)

حضرت سے کہا گیا کہ اگر کسی شخص کو گھر میں چھوڑ کر اس کا دروازہ بند کر دیا جائے…

مزید پڑھیے
حکمت (341) :  ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہو گا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔ (341- ظالم و مظلوم) حکمت حکمت 341

حکمت (341) : ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہو گا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔ (341- ظالم و مظلوم)

ظالم کے لیے انصاف کا دن اس سے زیادہ سخت ہو گا، جتنا مظلوم پر ظلم کا دن۔

مزید پڑھیے
حکمت (357) :  حضرت نے ایک جماعت کو ان کے مرنے والے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ »موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے یہ تمہارا ساتھی مصروف سفر رہتا تھا۔ اب بھی یہی سمجھو کہ وہ اپنے کسی سفرمیں ہے اگر وہ آگیا تو بہتر، ورنہ تم خود اس کے پاس پہنچ جاؤ گے«۔ (357- تعزیت) حکمت حکمت 357

حکمت (357) : حضرت نے ایک جماعت کو ان کے مرنے والے کی تعزیت کرتے ہوئے فرمایا کہ »موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے یہ تمہارا ساتھی مصروف سفر رہتا تھا۔ اب بھی یہی سمجھو کہ وہ اپنے کسی سفرمیں ہے اگر وہ آگیا تو بہتر، ورنہ تم خود اس کے پاس پہنچ جاؤ گے«۔ (357- تعزیت)

موت کی ابتداء تم سے نہیں ہوئی ہے اور نہ اس کی انتہا تم پر ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (342) :  سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔ (342- بڑی دولت مندی) حکمت حکمت 342

حکمت (342) : سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔ (342- بڑی دولت مندی)

سب سے بڑی دولت مندی یہ ہے کہ دوسروں کے ہاتھ میں جو ہے اس کی آس نہ رکھی جائے۔

مزید پڑھیے
حکمت (343) :  گفتگوئیں محفوظ ہیں اور دلوں کے بھید جانچے جانے والے ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے اور لوگوں کے جسموں میں نقص اور عقلوں میں فتور آنے والا ہے مگر وہ کہ جسے اللہ بچائے رکھے۔ ان میں پوچھنے والا الجھانا چاہتا ہے اور جواب دینے والا (بے جانے بوجھے جواب کی)زحمت اٹھاتا ہے جو ان میں درست رائے رکھتا ہے۔ اکثر خوشنودی و ناراضگی کے تصورات اسے صحیح رائے سے موڑ دیتے ہیں اور جو ان میں عقل کے لحاظ سے پختہ ہوتا ہے بہت ممکن ہے کہ ایک نگا ہ اس کے دل پر اثر کر دے اور ایک کلمہ اس میں انقلاب پیدا کر دے۔ (343- کچھ لوگوں کی حالت) حکمت حکمت 343

حکمت (343) : گفتگوئیں محفوظ ہیں اور دلوں کے بھید جانچے جانے والے ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے اور لوگوں کے جسموں میں نقص اور عقلوں میں فتور آنے والا ہے مگر وہ کہ جسے اللہ بچائے رکھے۔ ان میں پوچھنے والا الجھانا چاہتا ہے اور جواب دینے والا (بے جانے بوجھے جواب کی)زحمت اٹھاتا ہے جو ان میں درست رائے رکھتا ہے۔ اکثر خوشنودی و ناراضگی کے تصورات اسے صحیح رائے سے موڑ دیتے ہیں اور جو ان میں عقل کے لحاظ سے پختہ ہوتا ہے بہت ممکن ہے کہ ایک نگا ہ اس کے دل پر اثر کر دے اور ایک کلمہ اس میں انقلاب پیدا کر دے۔ (343- کچھ لوگوں کی حالت)

گفتگوئیں محفوظ ہیں اور دلوں کے بھید جانچے جانے والے ہیں۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (344) :  اے گروہ مردم! اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ کتنے ہی ایسی باتوں کی امید باندھنے والے ہیں جن تک پہنچتے نہیں اور ایسے گھر تعمیر کرنے والے ہیں جن میں رہنا نصیب نہیں ہوتا اور ایسا مال جمع کرنے والے ہیں جسے چھوڑ جاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اسے غلط طریقہ سے جمع کیا ہو یا کسی کا حق دبا کر حاصل کیا ہو۔ اس طرح اسے بطور حرام پایا ہو اور اس کی وجہ سے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہو، تو اس کا وبال لے کر پلٹے اور اپنے پروردگار کے حضور رنج و افسوس کرتے ہوئے جا پہنچے دنیا و آخرت دونوں میں گھاٹا اٹھایا۔ یہی تو کھلم کھلا گھاٹا ہے۔ (344- پندو موعظت) حکمت حکمت 344

حکمت (344) : اے گروہ مردم! اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ کتنے ہی ایسی باتوں کی امید باندھنے والے ہیں جن تک پہنچتے نہیں اور ایسے گھر تعمیر کرنے والے ہیں جن میں رہنا نصیب نہیں ہوتا اور ایسا مال جمع کرنے والے ہیں جسے چھوڑ جاتے ہیں حالانکہ ہوسکتا ہے کہ اسے غلط طریقہ سے جمع کیا ہو یا کسی کا حق دبا کر حاصل کیا ہو۔ اس طرح اسے بطور حرام پایا ہو اور اس کی وجہ سے گناہ کا بوجھ اٹھایا ہو، تو اس کا وبال لے کر پلٹے اور اپنے پروردگار کے حضور رنج و افسوس کرتے ہوئے جا پہنچے دنیا و آخرت دونوں میں گھاٹا اٹھایا۔ یہی تو کھلم کھلا گھاٹا ہے۔ (344- پندو موعظت)

اللہ سے ڈرتے رہو کیونکہ کتنے ہی ایسی باتوں کی امید باندھنے والے ہیں جن تک پہنچتے نہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (345) :  گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔ (345- گناہ سے درماندگی) حکمت حکمت 345

حکمت (345) : گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔ (345- گناہ سے درماندگی)

گناہ تک رسائی کا نہ ہوتا بھی ایک صورت پاکدامنی کی ہے۔

مزید پڑھیے