maktoobaat
اہم خطوط اور مکتوبات امام علیؑ
مکتوب
مکتوب 49
مکتوب (49) : معاویہ کے نام (49- معاویہ کے نام)
دنیا آخر ت سے روگرداں کر دینے والی ہے اور جب دنیا دار اس سے کچھ تھوڑا بہت پالیتا ہے...
مکتوب
مکتوب 50
مکتوب (50) : جو مدینہ سے بصرہ کی جانب روانہ ہو تے ہوئے اہل کوفہ کے نام تحریر فرمایا (50- سپہ سالاروں کے نام)
خدا کے بندے علی امیرالمومنین علیہ السلام کے نام جو مددگاروں میں سر بر آور دہ ہیں۔
مکتوب
مکتوب 51
مکتوب (51) : خراج کے تحصیلداروں کے نام (51- خراج کے کارندوں کے نام)
خدا کے بندے علی امیرالمومنین علیہ السلام کا خط خراج وصول کرنے والوں کی طرف۔
مکتوب
مکتوب 52
مکتوب (52) : نماز کے بارے میں مختلف شہروں کے حکمرانوں کے نام (52- اوقات نماز کے بارے میں عہدہ داروں کے نام)
نماز اتنی مختصر پڑھاؤ جو سب سے کمزور آدمی پر بھی باز نہ ہو.
مکتوب
مکتوب 53
مکتوب (53) : عہد نامہ ٍ ا س دستاویز کو (مالک)اشتر نخعی رحمتہ اللہ کے لیے تحریر فرمایا 53 جب کہ محمد ابن ابی بکر کے حالات بگڑ جانے پر انہیں مصر اور اس کے اطراف کی حکومت سپرد کی .یہ سب سے طویل عہد نامہ اور امیر المومنین علیہ السلام کے توقیعات میں سب سے زیادہ محاسن پر مشتمل ہے۔ (53- آئین حکومت کے سلسلہ میں مالک ابن حارث کو ہدایت)
یہ ہے وہ فرمان جس پر کاربند رہنے کا حکم دیا ہے خدا کے بندے علی امیر المومنین علیہ السلام…
مکتوب
مکتوب 54
مکتوب (54) : جو عمر ان ابن حصین خزاعی کے ہاتھ طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا (54- طلحہ و زبیر کے نام)
اس خط کو ابو جعفر اسکافی نے اپنی کتاب مقامات میں ذکر کیا ہے۔
مکتوب
مکتوب 55
مکتوب (55) : معاویہ کے نام (55- معاویہ کے نام)
دنیا کو آزمائش کے لیے بنایا گیا ہے تاکہ اعمال کی حقیقت معلوم ہو۔
مکتوب
مکتوب 56
مکتوب (56) : جب شریح ابن ہانی کو شا م جانے والے لشکر کے آگے دستہ (مقدمتہ الجیش)کا سردار مقرر کیا ,تو انہیں یہ ہدایت فرمائی (56- شریح ابن ہانی کو ہدایت)
صبح وشام اللہ کا خوف رکھنا اور دنیا سے مطمئن نہ ہونا ضروری ہے۔
مکتوب
مکتوب 41
مکتوب (41) : ایک عامل کے نام (41- ایک عامل کے نام)
میں نے تمہیں اپنی امانت میں شریک کیا تھا اور تمہیں اپنا بالکل مخصوص آدمی قراردیا تھا۔
مکتوب
مکتوب 57
مکتوب (57) : مکتو ب مدینہ سے بصرہ کی طرف روانہ ہوتے وقت اہل کوفہ کے نام (57- مدینہ سے بصرہ روانہ ہوتے وقت اہل کوفہ کے نام)
د وہی صورتیں ہیں یا تومیں اپنے قوم قبیلے کے شہر سے نکلا ہوں یا ظالمانہ حیثیت سے مظلوم کی…
