nahjul balagah
حکمت
حکمت 40
حکمت (40) : عَقْل مَنْد کی زَبان اس کے دِل کے پِیچھے ہے اور بے وَقُوف کا دِل اس کی زَبان کے پِیچھے ہے۔ (40- دانا و نادان)
عَقْل مَنْد کی زَبان اس کے دِل کے پِیچھے ہے اور بے وَقُوف کا دِل اس کی زَبان کے پِیچھے…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 56
حکمت (56) : دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس (56- فقر و غنا)
دولت ہو تو پردیس میں بھی دیس ہے اور مفلسی ہو تو دیس میں بھی پردیس
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 25
حکمت (25) : جب کسی نے بھی کوئی بات دل میں چھپا کہ رکھنا چاہی تو وہ اس کی زبان سے بے ساختہ نکلے ہوئے الفاظ اور چہرہ کے آثار سے نمایاں ضرور ہو جاتی ہے۔ (25- بات چھپ نہیں سکتی)
دل کی باتیں زبان اور چہرے کے آثار سے ظاہر ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 41
حکمت (41) : یہی مطلب دوسرے لفظوں میں بھی حضرت سے مروی ہے اور وہ یہ کہ »بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے«۔بہر حال ان دونوں جملوں کا مقصد ایک ہے۔ (41- عاقل و احمق)
بے وقوف کا دل اس کے منہ میں ہے اور عقلمند کی زبان اس کے دل میں ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 57
حکمت (57) : قناعت وہ سرمایہ ہے جب ختم نہیں ہو سکتا۔ (57- قناعت)
قناعت وہ سرمایہ ہے جب ختم نہیں ہو سکتا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 26
حکمت (26) : مرض میں جب تک ہمت ساتھ دے، چلتے پھرتے رہو۔ (26- ہمت نہ چھوڑو)
مَرَض میں جب تَک ہَمَّت سَاتھ دے چَلتے پھِرتے رہو۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 42
حکمت (42) : اللہ نے تمہارے مرض کو تمہارے گناہوں کو دور کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ خود مرض کا کوئی ثواب نہیں ہے۔ مگر وہ گناہوں کو مٹاتا اور انہیں اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح درخت سے پتے جھڑتے ہیں۔ ہاں ! ثواب اس میں ہوتا ہے کہ کچھ زبان سے کہا جائے اور کچھ ہاتھ پیروں سے کیا جائے، اور خدا وند عالم اپنے بندوں میں سے نیک نیتی اور پاکدامنی کی وجہ سے جسے چاہتا ہے جنت میں داخل کرتا ہے۔ (42- اجر و عوض)
اللہ نے تمہارے مرض کو تمہارے گناہوں کو دور کرنے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 58
حکمت (58) : مَالِ نَفْسَانِی خواہِشوں کا سَرْچَشْمَہ ہے۔ (58- مال و دولت)
مَالُ نَفْسَانِی خواہِشوں کا سَرْچَشْمَہ ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 27
حکمت (27) : بہترین زُہد، زُہد کا مَخفی رکھنا ہے۔ (27- اخفائے زہد)
بہترین زُہد، زُہد کا مَخفی رکھنا ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 43
حکمت (43) : جناب ابن ارت کے بارے میں فرمایا۔ خدا خباب ابن ارت پر رحمت اپنی شامل حال فرمائے وہ اپنی رضا مندی سے اسلام لائے اور بخوشی ہجرت کی اور ضرورت بھر قناعت کی اور اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر راضی رہے اور مجاہدانہ شان سے زندگی بسر کی۔ (43- خباب ابن ارت)
جنابِ ابنِ اَرْت کے بارے میں فرمایا۔ خدا خَبّابِ ابنِ اَرْت پر رحمتِ اپنی شاملِ حال فرمائے۔
مزید پڑھیے
