nehjul balagah
خطبہ
خطبہ 175
خطبہ (175) : حکمین کے بارے میں فرمایا (175- حکمین کے بارے میں فرمایا)
حکمین کے سلسلہ میں ارشاد فرمایا: تمہاری جماعت ہی نے دو شخصوں کے چن لینے کی رائے طے کی تھی۔
خطبہ
خطبہ 191
خطبہ (191) : متقین کے اوصاف اور ابنِ کوا کی غلط فہمى کا ازالہ (191- متقین کے اوصاف اور نصیحت پذیر طبیعتوں پر موعظت کا اثر)
امیرالمومنین (علیہ السلام) نے متقین کی صفات بیان کیں اور اللہ سے ڈرنے کی تلقین کی۔
خطبہ
خطبہ 176
خطبہ (176) : خداوند عالم کی توصیف، دنیا کی بے ثباتی اور زوالِ نعمت کے اسباب (176- خداوند عالم کی توصیف، دُنیا کی بے ثباتی اور اسباب زوال نعمت)
خدا وند عالم کو ایک حالت دوسری حالت سے سدّراہ نہیں ہوتی نہ زمانہ اس میں تبدیلی پید اکر تا…
خطبہ
خطبہ 192
خطبہ (192) : پیغمبر کی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت کا تذکرہ (192- پیغمبر ﷺکی بعثت، قبائلِ عرب کی عداوت اور منافقین کی حالت)
ہم اس کی حمدو ستائش کرتے ہیں جس نے اطاعت کی توفیق بخشی اور معصیت سے روک کر رکھا۔
خطبہ
خطبہ 161
خطبہ (161) : اللہ کی توصیف اور انسان کی خلقت (161- اللہ کی توصیف، خلقت انسان اور ضروریات زندگی کی طرف رہنمائی)
تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جو بندوں کا پیدا کرنے والا ہے۔
خطبہ
خطبہ 177
خطبہ (177) : جب ذعلب یمانی نے یہ سوال کیا کہ آپ نے خدا کو دیکھا ہے تو اس کے جواب میں فرمایا (177- جب پوچھا گیا کہ کیا آپؑ نے خدا کو دیکھا ہے تو فرمایا)
ذعلب یمنی نے آپ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟
خطبہ
خطبہ 193
خطبہ (193) : قیامت کے برپا ہونے کی کیفیت (193- خداوند عالم کی توصیف، تقویٰ کی نصیحت اور قیامت کی کیفیت)
تمام تعریف اس اللہ کے ليےہے جس نے اپنی فرما نروائی و جلال کبریائی کے آثار کو نمایا ں کرکے...
خطبہ
خطبہ 162
خطبہ (162) : امیر المومنین ؑ کا حضرت عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر (162- امیرالمومنینؑ کا عثمان سے مکالمہ اور ان کی دامادی پر ایک نظر)
جب امیرالمومنین ﷷ کے پاس لوگ جمع ہو کر آئے اور عثمان کے متعلق جو باتیں انہیں بری معلوم ہوئی…
خطبہ
خطبہ 178
خطبہ (178) : اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا (178- اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا)
اپنے اصحاب کی مذمت میں فرمایا: میں اللہ کی حمد و ثناء کرتا ہوں ہر اس امر پر جس کا…
خطبہ
خطبہ 194
خطبہ (194) : بعثتِ پیغمبر ﷺ کے وقت دنیا کی حالت (194- بعثتِ پیغمبرؐ کے وقت دنیا کی حالت، دنیا کی بے ثباتی)
اللہ نے اپنے رسول کو اس وقت مبعوث کیا جبکہ ہدایت کا کوئی نشان باقی نہ رہا تھا۔
