خطبہ
خطبہ 154
خطبہ (154) : حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور اہلِ بصرہ کو فتنوں سے آگاہ کرنا (154- حضرت عائشہ کے عناد کی کیفیت اور فتنوں کی حالت)
اس میں اہل بصرہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں فتنوں سے آگاہ کیا ہے۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 155
خطبہ (155) : دنیا کی بے ثباتی اور اعضاء جوارح کی شہادت (155- دُنیا کی بے ثباتی، پندو موعظت اور اعضاء و جوارح کی شہادت)
تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے جس نے حمد کو اپنے ذکر کا افتتاحیہ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 156
خطبہ (156) : بعثتِ پیغمبر اور بنی امیہ کے مظالم اور اُن کا انجام (156- بعثت پیغمبرﷺ کا تذکرہ، بنی اُمیّہ کے مظالم اور ان کا انجام)
اللہ نے آپ کو اس وقت رسول بنا کر بھیجا جب کہ رسولوں کا سلسلہ رکا ہوا تھا۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 157
خطبہ (157) : لوگوں کے ساتھ آپ کا حسنِ سلوک اور اُن کی لغزشوں سے چشم پوشی (157- لوگوں کے ساتھ آپ کا حُسنِ سلوک اور ان کی لغزشوں سے چشم پوشی)
میں تمہارا اچھا ہمسایہ بن کر رہا اور اپنی طاقت بھر تمہاری نگہداشت و حفاظت کرتا رہا۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 158
خطبہ (158) : خداوند عالم کی توصیف، خوف و رجاء ، انبیاء کی زندگی، اور امیر المومنین کے پیراہن کی حالت (158- خداوندِعالم کی توصیف ،خوف ورجاء، انبیاءؑ کی زندگی)
اس کا حکم فیصلہ کن اور حکمت آمیز اور اس کی خوشنودی امان اور رحمت ہے۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 159
خطبہ (159) : دینِ اسلام کی عظمتت اور دنیا سے درسِ عبرت حاصل کرنے کی تعلیم (159- دین اسلام کی عظمت اور دُنیا سے درس عبرت حاصل کرنے کی تعلیم)
اللہ نے اپنے رسول کو چمکتے ہوئے نور، روشن دلیل، کھلی ہوئی راہ، شریعت اور ہدایت دینے والی کتاب کے…
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 160
خطبہ (160) : حضرت کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ (160- حضرتؑ کو خلافت سے الگ رکھنے کے وجوہ)
حضرت کے اصحاب نے سوال کیا کہ آپ کو خلافت سے کیوں الگ رکھا گیا؟
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 137
خطبہ (137) : شوریٰ کے موقع پر فرمایا (137- شوریٰ کے موقع پر فرمایا)
شوریٰ کے موقع پر فرمایا:۔ مجھ سے پہلے تبلیغ حق صلہ رحم اور جود و کرم کی طرف کسی نے…
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 138
خطبہ (138) : غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلے میں فرمایا (138- غیبت اور عیب جوئی سے ممانعت کے سلسلہ میں فرمایا)
اس میں لوگوں کو دوسروں کے عیب بیان کرنے سے روکا ہے۔
مزید پڑھیے
خطبہ
خطبہ 139
خطبہ (139) : سنی سنائی باتوں کو سچا نہیں سمجھنا چاہئے (139- سُنی سُنائی باتوں کو سچا نہ سمجھنا چاہئے)
اے لوگو! افواہی باتوں پر کان نہ دھرو۔ سچ اور جھوٹ میں صرف چار انگلیوں کا فاصلہ ہے۔
مزید پڑھیے
