0 اندراجات
حکمت (310) :  کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ (310- توکل) حکمت حکمت 310

حکمت (310) : کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے اس پر زیادہ اطمینان نہ ہو جو قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ (310- توکل)

کسی بندے کا ایمان اس وقت تک سچا نہیں ہوتا جب تک اپنے ہاتھ میں موجود ہونے والے مال سے…

مزید پڑھیے
حکمت (311) :  جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے۔ (311- اَنس ابن مالک) حکمت حکمت 311

حکمت (311) : جب حضرت بصرہ میں وارد ہوئے تو انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے پاس بھیجا تھا کہ ان دونوں کو کچھ وہ اقوال یاد دلائیں جو آپ علیہ السّلام کے بارے میں انہوں نے خود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنے ہیں۔ مگر انہوں نے اس سے پہلوتہی کی، اور جب پلٹ کر آئے تو کہا کہ وہ بات مجھے یاد نہیں رہی اس پر حضرت نے فرمایا اگر تم جھو ٹ بول رہے ہو تو اس کی پاداش میں خداوند عالم ایسے چمکدار داغ میں تمہیں مبتلا کرے، کہ جسے دستار بھی نہ چھپا سکے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ) سفید داغ سے مراد برص ہے چنانچہ انس مر ض میں مبتلا ہو گئے جس کی وجہ سے ہمیشہ نقاب پوش دکھائی دیتے تھے۔ (311- اَنس ابن مالک)

حضرت علی علیہ السلام نے انس بن مالک کو طلحہ و زبیر کے اقوال یاد دلانے بھیجا تھا، مگر انہوں…

مزید پڑھیے
حکمت (312) :  دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں، اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پر آمادہ کرو۔ اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو۔ (312- دلوں کی حالت) حکمت حکمت 312

حکمت (312) : دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں، اس وقت انہیں مستحبات کی بجا آوری پر آمادہ کرو۔ اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات پر اکتفا کرو۔ (312- دلوں کی حالت)

دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (313) :  قرآن میں تم سے پہلے کی خبر میں تمہارے بعد کے واقعات اور تمہارے درمیانی حالات کے لیے احکام ہیں۔ (313- قرآن کی جامعیت) حکمت حکمت 313

حکمت (313) : قرآن میں تم سے پہلے کی خبر میں تمہارے بعد کے واقعات اور تمہارے درمیانی حالات کے لیے احکام ہیں۔ (313- قرآن کی جامعیت)

قرآن میں تم سے پہلے کی خبر میں تمہارے بعد کے واقعات اور تمہارے درمیانی حالات کے لیے احکام ہیں۔

مزید پڑھیے
حکمت (314) :  جدھر سے پتھر آئے اسے ادھر ہی پلٹا دو کیونکہ سختی کا دفیعہ سختی ہی سے ہوسکتا ہے۔ (314- پتھر کا جواب پتھر سے) حکمت حکمت 314

حکمت (314) : جدھر سے پتھر آئے اسے ادھر ہی پلٹا دو کیونکہ سختی کا دفیعہ سختی ہی سے ہوسکتا ہے۔ (314- پتھر کا جواب پتھر سے)

جدھر سے پتھر آئے اسے ادھر ہی پلٹا دو کیونکہ سختی کا دفیعہ سختی ہی سے ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (315) :  اپنے منشی عبید اللہ ابن ابی رافع سے فرمایا 
دوات میں صوف ڈالا کر و، اور قلم کی زبان لانبی رکھا کرو۔ سطروں کے درمیان فاصلہ زیادہ چھوڑا کرو اور حروف کو ساتھ ملا کر لکھا کرو کہ یہ خط کی دیدہ زیبی کے لیے منا سب ہے۔ (315- خط کی دیدہ زیبی) حکمت حکمت 315

حکمت (315) : اپنے منشی عبید اللہ ابن ابی رافع سے فرمایا دوات میں صوف ڈالا کر و، اور قلم کی زبان لانبی رکھا کرو۔ سطروں کے درمیان فاصلہ زیادہ چھوڑا کرو اور حروف کو ساتھ ملا کر لکھا کرو کہ یہ خط کی دیدہ زیبی کے لیے منا سب ہے۔ (315- خط کی دیدہ زیبی)

اپنے منشی عبید اللہ ابن ابی رافع سے فرمایا: داوت میں صوف ڈالا کر و، اور قلم کی زبان لانبی…

مزید پڑھیے
حکمت (316) :  میں اہل ایمان کا یعسوب ہوں اور بد کرداروں کا یعسوب مال ہے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والے میری پیروی کرتے ہیں اور بدکردار مال و دولت کا اسی طرح اتباع کرتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیاں یعسوب کی اقتدا کرتی ہیں اور یعسوب اس مکھی کو کہتے ہیں جو ان کی سردار ہوتی ہے۔ (316- یعسوب المومنین) حکمت حکمت 316

حکمت (316) : میں اہل ایمان کا یعسوب ہوں اور بد کرداروں کا یعسوب مال ہے۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ )اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان والے میری پیروی کرتے ہیں اور بدکردار مال و دولت کا اسی طرح اتباع کرتے ہیں جس طرح شہد کی مکھیاں یعسوب کی اقتدا کرتی ہیں اور یعسوب اس مکھی کو کہتے ہیں جو ان کی سردار ہوتی ہے۔ (316- یعسوب المومنین)

میں اہل ایمان کا یعسوب ہوں اور بد کرداروں کا یعسوب مال ہے۔

مزید پڑھیے
حکمت (317) :  ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کو دفن نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں اختلاف شروع کر دیا۔ حضرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے میں اختلاف نہیں کیا۔ بلکہ ان کے بعد جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا مگر تم تو وہ ہو کہ ابھی دریائے نیل سے نکل کر تمہارے پیر خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ توموسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ بیشک تم ایک جاہل قوم ہو۔ (317- ایک یہودی) حکمت حکمت 317

حکمت (317) : ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کو دفن نہیں کیا تھا کہ ان کے بارے میں اختلاف شروع کر دیا۔ حضرت نے فرمایا ہم نے ان کے بارے میں اختلاف نہیں کیا۔ بلکہ ان کے بعد جانشینی کے سلسلہ میں اختلاف ہوا مگر تم تو وہ ہو کہ ابھی دریائے نیل سے نکل کر تمہارے پیر خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ اپنے نبی سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی ایک ایسا خدا بنا دیجئے جیسے ان لوگوں کے خدا ہیں۔ توموسیٰ علیہ السّلام نے کہا کہ بیشک تم ایک جاہل قوم ہو۔ (317- ایک یہودی)

ایک یہودی نے آپ سے کہا کہ ابھی تم لوگوں نے اپنے نبی کو دفن نہیں کیا تھا کہ ان…

مزید پڑھیے
حکمت (318) :  حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلوں پر چھا جاتی تھی۔ (318- غلبہ کا سبب) حکمت حکمت 318

حکمت (318) : حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ میں جس شخص کا بھی مقابلہ کر تا تھا وہ اپنے خلاف میری مدد کرتا تھا۔ (سید رضی فرماتے ہیں کہ )حضرت نے اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ کی ہیبت دلوں پر چھا جاتی تھی۔ (318- غلبہ کا سبب)

حضرت سے کہا گیا کہ آپ کس وجہ سے اپنے حریفوں پر غالب آتے رہے ہیں تو آپ نے فرمایا…

مزید پڑھیے
حکمت (278) :  وہ تھوڑا عمل جو پابندی سے بجا لایا جاتا ہے زیادہ فائدہ مند ہے اس کثیر عمل سے کہ جس سے دل اکتا جائے۔ (278- مفید عمل) حکمت حکمت 278

حکمت (278) : وہ تھوڑا عمل جو پابندی سے بجا لایا جاتا ہے زیادہ فائدہ مند ہے اس کثیر عمل سے کہ جس سے دل اکتا جائے۔ (278- مفید عمل)

وہ تھوڑا عمل جو پابندی سے بجا لایا جاتا ہے زیادہ فائدہ مند ہے۔

مزید پڑھیے