Hikmat
مختصر مگر گہری حکمتوں کا انتخاب
حکمت
حکمت 196
حکمت (196) : تمہارا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے۔ (196- عبرت کی قدر و قیمت)
تمہارا وہ مال اکارت نہیں گیا جو تمہارے لیے عبرت و نصیحت کا باعث بن جائے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 165
حکمت (165) : خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔ (165- اطاعتِ مخلوق)
خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 181
حکمت (181) : کوتاہی کا نتیجہ شرمندگی اور احتیاط و دور اندیشی کا نتیجہ سلامتی ہے۔ (181- دُور اندیشی)
کوتاہی کا نتیجہ شرمندگی اور احتیاط و دور اندیشی کا نتیجہ سلامتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 197
حکمت (197) : یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔ لہٰذا (جب ایسا ہو تو )ان کے لیے لطیف حکیمانہ جملے تلاش کرو (197- دلوں کی خستگی)
یہ دل بھی اسی طرح تھکتے ہیں جس طرح بدن تھکتے ہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 166
حکمت (166) : اگر کوئی شخص اپنے حق میں دیر کرے تو اس پر عیب نہیں لگایا جا سکتا۔ بلکہ عیب کی بات یہ ہے کہ انسان دوسرے کے حق پر چھاپا مارے۔ (166- حق سے دستبرداری)
اگر کوئی شخص اپنے حق میں دیر کرے تو اس پر عیب نہیں لگایا جا سکتا۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 182
حکمت (182) : حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں جس طرح جہالت کی بات میں کوئی اچھائی نہیں۔ (182- خاموشی و گویائی کا محل)
حکیمانہ بات سے خاموشی اختیار کرنے میں بھلائی نہیں۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 198
حکمت (198) : جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ «(حکم اللہ سے مخصوص ہے )سنا تو فرمایا :یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس سے مراد لیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔ (198- قول خوارج)
جب خوار ج کا قول »لاَ حُکمَ اِلاَّ اللّٰہ « سنا تو فرمایا: یہ جملہ صحیح ہے مگر جو اس…
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 167
حکمت (167) : خود پسندی ترقی سے مانع ہوتی ہے۔ (167- خود پسندی)
خود پسندی ترقی سے مانع ہوتی ہے۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 183
حکمت (183) : جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی، تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہو گی۔ (183- دو مختلف دعوتیں)
جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی، تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہو گی۔
مزید پڑھیے
حکمت
حکمت 199
حکمت (199) : بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے ہیں۔ جب منتشر ہوں تو پہچانے نہیں جاتے۔ ایک قول یہ ہے کہ آپ نے فرمایا :کہ جب اکٹھا ہوتے ہیں تو باعث ضرر ہوتے ہیں اور جب منتشر ہو جاتے ہیں تو فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں لوگوں نے کہا کہ ہمیں ان کے مجتمع ہونے کا نقصان تو معلوم ہے مگر ان کے منتشر ہونے کا فائدہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ پیشہ ور اپنے اپنے کاروبار کی طرف پلٹ جاتے ہیں تو لوگ ان کے ذریعہ فائدہ اٹھاتے ہیں جیسے معمار اپنی (زیر تعمیر )عمارت کی طرف جولاہا اپنے کاروبار کی جگہ کی طرف اور نانبائی اپنے تنور کی طرف۔ (199- عوام)
بازاری آدمیوں کی بھیڑ بھاڑ کے بارے میں فرمایا: یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ مجتمع ہوں تو چھا جاتے…
مزید پڑھیے
