حکمت (102) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک ایسے دور کی پیشین گوئی کی ہے جس میں معاشرتی اقدار کی تبدیلی کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی عکاسی کرتی ہے جب لوگ اپنے اخلاقی اور روحانی معیاروں سے دور ہو جائیں گے۔ امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اس دور میں وہ لوگ عزت و احترام کے قابل سمجھے جائیں گے جو دوسروں کے عیوب بیان کریں گے، جبکہ انصاف پسند اور نیک لوگ کمزور اور ناتواں سمجھے جائیں گے۔ یہ ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے جہاں معاشرتی انصاف اور اخلاقیات کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں۔
امام (علیہ السلام) نے اس حکمت میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ صدقہ دینا خسارہ سمجھا جائے گا، حالانکہ یہ ایک عظیم عبادت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ اپنے مال و دولت کو صرف اپنی خوشی کے لئے استعمال کریں گے اور دوسروں کی مدد کرنے میں تردد کریں گے۔ اسی طرح، صلہ رحمی کو احسان سمجھا جائے گا، جو کہ ایک منفی رویہ ہے۔ یہ معاشرتی انحطاط کی علامت ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے بجائے خود غرضی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
اس حکمت میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ عبادت کا مقصد لوگوں پر تفوق جتلانا ہوگا، یعنی لوگ عبادت کو صرف اپنی عظمت دکھانے کا ذریعہ سمجھیں گے۔ یہ ایک خطرناک تبدیلی ہے کیونکہ عبادت کا اصل مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا اور روحانی ترقی ہے۔ اس کے برعکس، اس دور میں عبادت کا مقصد صرف دکھاوا ہوگا۔
آخر میں، امام علی (علیہ السلام) نے اس دور کی حکومت کی نوعیت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کا دارومدار عورتوں، نوخیز لڑکوں اور خواجہ سراؤں کے مشوروں پر ہوگا۔ یہ ایک عجیب صورتحال ہے جہاں معاشرتی نظام کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں اور ان لوگوں کی رائے اہم ہو جاتی ہے جو کہ عموماً معاشرتی نظام میں کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ یہ حکمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں اپنے اخلاقی اور روحانی معیاروں کو برقرار رکھنا چاہیے اور معاشرتی انصاف کے اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
