حکمت (103) میں امام علی علیہ السلام نے ایک بوسیدہ اور پیوند دار لباس کے بارے میں فرمایا کہ یہ دل کو متواضع اور نفس کو رام کرتا ہے۔ یہ بات ایک اہم پیغام ہے جو دنیاوی زندگی کی عارضیت اور آخرت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت اس وقت کی عکاسی کرتی ہے جب لوگ مادی چیزوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور دنیا کی چمک دمک میں کھو گئے تھے۔
اس حکمت میں دو اہم موضوعات ہیں: دنیا اور آخرت کا تعلق، اور مومن کی زندگی کا طرز عمل۔ امام علیہ السلام نے واضح کیا ہے کہ دنیا اور آخرت ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ جو شخص دنیا کی محبت میں گرفتار ہوگا، وہ آخرت سے دور ہو جائے گا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے سمجھنا ہر مومن کے لیے ضروری ہے۔
امام علی علیہ السلام نے مشرق اور مغرب کی مثال دی ہے، جو ایک دوسرے سے دور ہیں۔ اگر کوئی شخص ایک سمت میں بڑھتا ہے تو لازمی طور پر دوسری سمت سے دور ہو جاتا ہے۔ یہ تشبیہ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ دنیا کی محبت اور آخرت کی طلب دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
اس حکمت کا ایک اہم اخلاقی سبق یہ ہے کہ ہمیں دنیاوی چیزوں سے زیادہ آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے دلوں کو متواضع رکھنا چاہیے اور دنیا کی عارضیت کو سمجھ کر اپنے اعمال کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اس طرح ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور آخرت کی کامیابی کے لیے تیاری کر سکتے ہیں۔
