حکمت (104) میں نوف ابن فضالہ بکالی کی روایت ہے کہ انہوں نے ایک رات امیرالمومنین امام علی علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ بیدار ہو کر ستاروں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس موقع پر امام نے نوف سے پوچھا کہ کیا وہ سو رہے ہیں یا جاگ رہے ہیں۔ نوف نے جواب دیا کہ وہ جاگ رہے ہیں۔ اس پر امام نے فرمایا: خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا میں زہد اختیار کرتے ہیں اور آخرت کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ یہ لوگ زمین کو فرش، مٹی کو بستر اور پانی کو شربت خوشگوار سمجھتے ہیں۔
یہ حکمت زہد اور دنیاوی متاع سے بے رغبتی کے موضوع پر روشنی ڈالتی ہے۔ امام علی علیہ السلام نے ان لوگوں کی تعریف کی ہے جو دنیا کی عیش و عشرت کو چھوڑ کر آخرت کی تیاری میں مصروف رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد صرف دنیاوی فوائد نہیں بلکہ روحانی ترقی اور اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے۔
امام نے یہ بھی ذکر کیا کہ قرآن کو سینے سے لگانا اور دعا کو سپر بنانا ان کی زندگی کا حصہ ہے۔ یہ الفاظ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ روحانی تعلقات کی اہمیت کو سمجھنا اور ان کی حفاظت کرنا ضروری ہے۔ دعا ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے رب سے قریب ہو سکتا ہے۔
امام نے حضرت داؤد علیہ السلام کا ذکر کیا ہے جو رات کے اس حصے میں بیدار ہوتے تھے اور دعا کرتے تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رات کا یہ وقت دعا کے لیے خاص طور پر مؤثر ہے۔ امام نے یہ بھی واضح کیا کہ کچھ لوگ، جیسے کہ سرکاری ٹیکس وصول کرنے والے یا لوگوں کی برائیاں کرنے والے، اس وقت دعا کرنے کے مستحق نہیں ہیں۔ یہ ایک اہم درس ہے کہ انسان کو اپنی نیت اور عمل کی پاکیزگی کا خیال رکھنا چاہیے۔
