Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 11

تفصیلی وضاحت — حکمت (11) : لوگوں میں بہت درماندہ وہ ہے جب اپنی عمر میں کچھ بھلائی اپنے لیے نہ حاصل کرسکے ،اور اس سے بھی زیادہ درماندہ وہ ہے جب پا کر اسے کھو دے۔ (11- عجز و درماندگی)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک عمیق بصیرت کی عکاسی کرتی ہے جو انسانی زندگی کے اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ یہ قول اس وقت کے سماجی اور اقتصادی حالات کے تناظر میں بیان کیا گیا جب لوگ اپنی زندگی میں کامیابی کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ امام علی (ع) نے یہ بات اس وقت کہی جب معاشرتی مسائل اور افراد کی ناکامیوں کا سامنا عام تھا۔

اس حکمت میں دو اہم اقسام کی درماندگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ پہلی قسم وہ ہے جس میں انسان اپنی عمر میں کوئی بھی بھلائی حاصل نہیں کر پاتا۔ یہ حالت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لانے میں ناکام رہتا ہے، جو کہ اس کی روحانی اور اخلاقی ترقی کے لیے ضروری ہیں۔

دوسری قسم کی درماندگی اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، یعنی وہ شخص جو کچھ بھلائی حاصل کرتا ہے لیکن اسے کھو دیتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان جب کامیابی حاصل کرتا ہے تو اسے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، جو کہ اس کی کمزوری اور ناکامی کی علامت ہے۔

اس حکمت کے ذریعے امام علی (ع) ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی میں کامیابی کا حصول اور اس کا تحفظ دونوں ہی اہم ہیں۔ انسان کو اپنی کوششوں کے نتیجے میں ملنے والی بھلائی کو سنبھالنے کی اہلیت بھی ہونی چاہیے۔

اخلاقی اور روحانی لحاظ سے، یہ حکمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں مثبت چیزوں کی تلاش کرنی چاہیے اور ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ یہ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بھلائی کو حاصل کرے اور اسے کھونے سے بچائے۔

عملی طور پر، اس حکمت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی کوششوں میں مستقل مزاجی اختیار کرنی چاہیے اور اپنی کامیابیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری زندگی کی کامیابی صرف اس میں نہیں ہے کہ ہم کیا حاصل کرتے ہیں، بلکہ اس میں بھی ہے کہ ہم اس کو کیسے سنبھالتے ہیں۔