Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 113

تفصیلی وضاحت — حکمت (113) : عقل سے بڑھ کر کوئی مال سود مند اور خود بینی سے بڑھ کر کوئی تنہائی وحشتناک نہیں اور تدبر سے بڑھ کر کوئی عقل کی بات نہیں اور کوئی بزرگی تقویٰ کے مثل نہیں اور خوش خلقی سے بہتر کوئی ساتھی اور ادب کے مانند کوئی میراث نہیں اور توفیق کے مانند کوئی پیشرو اور اعمال خیر سے بڑھ کر کوئی تجارت نہیں اور ثواب کا ایسا کوئی نفع نہیں اور کوئی پرہیز گاری شبہات میں توقف سے بڑھ کر نہیں اور حرام کی طرف بے رغبتی سے بڑھ کر کوئی زہد اور تفکر اور پیش بینی سے بڑھ کر کوئی علم نہیں اور ادائے فرائض کے مانند کوئی عبادت اور حیا و صبر سے بڑھ کر کوئی ایمان نہیں اور فروتنی سے بڑھ کر کوئی سرفرازی نہیں اور علم کے مانند کوئی بزرگی و شرافت نہیں حلم کے مانند کوئی عزت اور مشورہ سے مضبوط کوئی پشت پناہ نہیں (113- پسندیدہ اوصاف)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک اہم تعلیماتی عبارت ہے جو انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس حکمت میں عقل، تقویٰ، خوش خلقی، علم، اور عمل کے موضوعات کو پیش کیا گیا ہے۔ یہ بیان انسان کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ حقیقی دولت عقل ہے، اور خود بینی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔

تاریخی تناظر میں، یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کے دور میں اسلامی معاشرت کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے، جہاں لوگوں کو علم اور عمل کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ دور ان کے لیے تھا جب اسلام کی بنیادیں مضبوط ہو رہی تھیں، اور لوگوں کو اخلاقی اور روحانی اصولوں کی ضرورت تھی۔

حکمت کے کچھ اہم نکات میں عقل کی اہمیت، تقویٰ کی فضیلت، اور خوش خلقی کی خوبی شامل ہیں۔ عقل کو سب سے بڑی دولت قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ انسان کو صحیح فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔ خود بینی، یعنی اپنے آپ پر ناز کرنا، انسان کو تنہائی کی طرف لے جاتی ہے، جو کہ ایک خطرناک حالت ہے۔

امام علی (علیہ السلام) نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ تقویٰ ہی انسان کی اصل بزرگی ہے، اور اس کے بغیر کوئی انسان حقیقی عظمت حاصل نہیں کر سکتا۔ خوش خلقی کو بہترین ساتھی قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہ انسان کے تعلقات کو بہتر بناتی ہے۔

عمل صالح کو تجارت کے طور پر بیان کیا گیا ہے، جو کہ آخرت میں ثواب کا باعث بنتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ان اصولوں کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکیں۔