Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 114

تفصیلی وضاحت — حکمت (114) : جب دنیا اور اہل دنیا میں نیکی کا چلن ہو، اور پھر کوئی شخص کسی ایسے شخص سے کہ جس سے رسوائی کی کوئی بات ظاہر نہیں ہوئی سُوِ ظن رکھے تو اس نے اس پر ظلم و زیادتی کی اور جب دنیا و اہل دنیا پر شر و فساد کا غلبہ ہو اور پھر کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے حسن ظن رکھے تو اس نے (خود ہی اپنے کو) خطرے میں ڈالا۔ (114- خوش گمانی و بد گمانی)

حکمت (114) میں امام علی علیہ السلام نے انسانی معاشرت کے دو مختلف پہلوؤں کی عکاسی کی ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب دنیا میں نیکی کا چلن ہو، تو ایسے میں اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے بارے میں سوء ظن رکھے، تو یہ ظلم و زیادتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب معاشرت میں اچھے اخلاق اور نیکی کا دور دورہ ہو، تو ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو اسلامی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

دوسری طرف، جب دنیا میں شر و فساد کا غلبہ ہو، تو اگر کوئی شخص حسن ظن رکھتا ہے تو یہ اس کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو حالات کی حقیقت کو سمجھنا چاہیے اور بے جا حسن ظن سے بچنا چاہیے۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد کی حقیقتوں کو مدنظر رکھ کر اپنی سوچ کو تشکیل دینا چاہیے۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ لوگوں کے بارے میں ہماری رائے ان کی حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے۔ اگر ہم بے بنیاد شک و شبہات میں مبتلا ہوں تو یہ نہ صرف دوسروں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ہماری اپنی روحانی حالت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ ہمیں اپنے اندر نیکی کے چلن کو فروغ دینا چاہیے اور دوسروں کے بارے میں حسن ظن رکھنا چاہیے، خاص طور پر جب معاشرت میں نیکی کا دور دورہ ہو۔