Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 115

تفصیلی وضاحت — حکمت (115) : امیر المومنین علیہ السّلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے ؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا: کہ اس کا حال کیا ہو گا جسے زندگی موت کی طرف لیے جا رہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔ (115- مزاج پُرسی کا جواب)

حکمت (115) : امیر المومنین علیہ السّلام سے دریافت کیا گیا کہ آپ علیہ السّلام کا حال کیسا ہے؟ تو آپ علیہ السّلام نے فرمایا: کہ اس کا حال کیا ہو گا جسے زندگی موت کی طرف لیے جا رہی ہو، اور جس کی صحت بیماری کا پیش خیمہ ہو اور جسے اپنی پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے۔

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی عمیق بصیرت اور انسانی حالت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ الفاظ اس وقت کی عکاسی کرتے ہیں جب امام اپنے دور کے چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کر رہے تھے۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب مسلمان معاشرہ مختلف داخلی اور خارجی مسائل کا شکار تھا، اور امام علی علیہ السلام کی قیادت میں اسلامی اصولوں کی پاسداری کی ضرورت تھی۔

امام علیہ السلام کی یہ حکمت ہمیں انسانی زندگی کی ناپائیداری اور عدم استحکام کی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ "زندگی موت کی طرف لیے جا رہی ہو" کا مطلب ہے کہ ہر لمحہ ہماری زندگی کا ایک قدم موت کے قریب لے جا رہا ہے۔ اس کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کی قدر کرنی چاہیے اور اپنی اعمال کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

"صحت بیماری کا پیش خیمہ" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ صحت کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کو اپنی صحت کی قدر کرنی چاہیے اور اس کی حفاظت کرنی چاہیے۔ یہ روحانی اور جسمانی دونوں صحت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

آخری جملہ "پناہ گاہ سے گرفت میں لے لیا جائے" ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی پناہ اس کا ایمان اور اللہ کی رحمت ہے۔ جب یہ پناہ گاہ چھن جاتی ہے، تو انسان کی حالت مزید خراب ہو جاتی ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اپنی پناہ گاہ کو مضبوط بنانا چاہیے۔