Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 116

تفصیلی وضاحت — حکمت (116) : کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جنہیں نعمتیں دے کر رفتہ رفتہ عذاب کا مستحق بنایا جاتا ہے اور کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جب اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھائے ہوئے ہیں اور اپنے بارے میں اچھے الفاظ سن کر فریب میں پڑ گئے ہیں اور مہلت دینے سے زیادہ اللہ کی جانب سے کوئی بڑی آزمائش نہیں ہے۔ (116- ابتلاء و آزمائش)

حکمت (116) میں امام علی (علیہ السلام) نے انسانی فطرت اور اللہ کی حکمتوں کی ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو نعمتوں سے نوازتا ہے، لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ ان کی بھلائی چاہتا ہے۔ بلکہ یہ ایک امتحان ہوتا ہے، جس کے ذریعے اللہ دیکھتا ہے کہ بندہ ان نعمتوں کا کیسا استعمال کرتا ہے۔

تاریخی تناظر میں، یہ حکمت اس وقت کی ہے جب امام علی (علیہ السلام) نے لوگوں کو ان کی غلط فہمیوں سے آگاہ کیا۔ لوگ اللہ کی رحمتوں کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں، لیکن یہ ضروری نہیں کہ یہ کامیابی ہمیشہ اچھی ہو۔ بعض اوقات یہ نعمتیں انسان کو غفلت میں مبتلا کر دیتی ہیں، اور وہ اپنے اعمال کی حقیقت سے غافل ہو جاتا ہے۔

امام (علیہ السلام) نے اس حکمت میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ بعض لوگ اللہ کی پردہ پوشی سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ جب اللہ کسی کے گناہوں کو چھپاتا ہے، تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ محفوظ ہے، حالانکہ یہ ایک بڑی آزمائش ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی مہلت دینا کبھی کبھی انسان کے لیے سب سے بڑی آزمائش بن جاتی ہے، کیونکہ وہ اپنی غلطیوں کو نہیں سمجھتا۔

اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے ان کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ کی پردہ پوشی کبھی بھی ہماری غلطیوں کی تائید نہیں کرتی۔ بلکہ، ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی آزمائشیں کبھی بھی ہماری کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہیں، اور ہمیں ان کا سامنا بہادری سے کرنا چاہیے۔