حکمت (118) : موقع کو ہاتھ سے جانے دینا رنج و اندوہ کا باعث ہوتا ہے۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی تعلیمات میں سے ایک اہم پیغام ہے جو انسانی زندگی میں مواقع کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی میں مواقع کا آنا ایک عام بات ہے، لیکن ان مواقع کو ضائع کرنا انسان کے لیے افسوس اور غم کا باعث بن سکتا ہے۔ تاریخی طور پر، امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں بہت سے مواقع کا سامنا کیا، جیسے کہ جنگوں میں شرکت اور اسلامی ریاست کی بنیاد رکھنا۔ ان مواقع کا صحیح استعمال ہی ان کی کامیابی کی وجہ بنا۔
اس حکمت کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ مواقع کو پہچاننا اور ان سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ جب ہم موقع کو ضائع کرتے ہیں، تو اس کا اثر ہماری زندگی پر منفی طور پر پڑتا ہے۔ یہ ہمیں ایک مایوسی کی حالت میں مبتلا کر سکتا ہے، جہاں ہم اپنے فیصلوں اور عملوں پر افسوس کرتے ہیں۔ امام علی (علیہ السلام) کی زندگی میں ہمیں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جہاں انہوں نے مواقع کو صحیح طور پر استعمال کیا اور اپنی قوم کی رہنمائی کی۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ چست رہنا چاہیے اور مواقع کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ اگر ہم موقع کو گنوا دیتے ہیں تو ہمیں اس کا افسوس ہمیشہ رہے گا۔ اس کے علاوہ، یہ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ زندگی میں کبھی کبھار مواقع خود بخود آتے ہیں، اور ہمیں ان کا فائدہ اٹھانے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
اخلاقی اور روحانی طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں مثبت رویہ اپنانا چاہیے اور مواقع کی قدر کرنی چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کوششوں کو بڑھائیں اور ہر ممکن موقع کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔ اس طرح ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اپنے مقاصد کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
