Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 119

تفصیلی وضاحت — حکمت (119) : دنیا کی مثال سانپ کی سی ہے جب چھونے میں نرم معلوم ہوتا ہے مگر اس کے اندر زہر ہلاہل بھرا ہوتا ہے، فریب خوردہ جاہل اس کی طرف کھینچتا ہے اور ہوشمند و دانا اس سے بچ کر رہتا ہے۔ (119- دنیا کی ایک مثال)

حکمت (119) میں امام علی علیہ السلام دنیا کی فطرت اور اس کے فریبوں کی مثال دیتے ہیں۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کی ظاہری خوبصورتی اور نرم ملائمیت دراصل اس کے اندر چھپے خطرات کی علامت ہیں۔ جیسے سانپ چھونے میں نرم لگتا ہے لیکن اس کے اندر زہر ہوتا ہے، اسی طرح دنیا بھی انسان کو اپنی طرف کھینچتی ہے جبکہ اس میں موجود فریب اور دھوکہ انسان کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں۔

یہ حکمت اس وقت کی اہمیت رکھتی ہے جب لوگ دنیاوی چیزوں کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور ان کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت کے ذریعے لوگوں کو ہوشیار کیا کہ دنیا کی محبت میں مبتلا نہ ہوں بلکہ عقل و دانش سے کام لیں۔

اس حکمت کے اہم موضوعات میں دنیا کی فریبکاری، عقل و دانش کی اہمیت، اور ہوشیاری شامل ہیں۔ یہاں 'فریب خوردہ جاہل' کا ذکر کیا گیا ہے جو دنیا کی چمک دمک میں آ کر خود کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جبکہ 'ہوشمند و دانا' وہ ہیں جو دنیا کے فریب سے بچ کر رہتے ہیں۔

مفہوم یہ ہے کہ انسان کو دنیا کی ظاہری خوبصورتی میں نہ آنا چاہیے بلکہ اس کی حقیقت کو سمجھ کر اپنی زندگی کے فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں دنیا کی محبت سے بچنا چاہیے اور اپنی عقل و دانش کا استعمال کرتے ہوئے صحیح راستے کا انتخاب کرنا چاہیے۔