حکمت (120) میں امام علی علیہ السلام نے قریش کے مختلف قبائل کی خصوصیات کا ذکر کیا ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب قریش عرب کے ایک اہم قبیلے کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کی سیاسی و سماجی حیثیت بہت بلند تھی۔ امام علیہ السلام نے بنی مخزوم کو قریش کا مہکتا پھول قرار دیا، جو ان کی خوبصورتی اور ثقافتی حیثیت کی علامت ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام علیہ السلام نے قریش کی مختلف شاخوں کی خصوصیات کو سمجھا اور ان کی خوبیوں اور خامیوں کا موازنہ کیا۔
بنی مخزوم کی تعریف کرتے ہوئے امام علیہ السلام نے ان کے مردوں کے ساتھ گفتگو اور ان کی عورتوں سے شادی کو پسندیدہ قرار دیا۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ امام علیہ السلام معاشرتی روابط اور اتحاد کی اہمیت کو سمجھتے تھے۔ اس کے برعکس، بنی عبد شمس کو دور اندیش اور حیلہ باز قرار دیا گیا ہے، جو ان کی چالاکی اور مکر کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
امام علیہ السلام نے بنی ہاشم کی خصوصیات کو بھی بیان کیا، جن میں سخاوت، جوانمردی اور خوش گفتاری شامل ہیں۔ یہ خصوصیات اسلامی معاشرت کی بنیاد ہیں اور امام علیہ السلام نے ان کا ذکر کر کے ہمیں یہ درس دیا ہے کہ ہمیں اپنی خوبیوں کو بڑھانا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں دوسروں کی خوبیوں اور خامیوں کی پہچان کرنی چاہیے اور اپنی زندگی میں ان خوبیوں کو اپنانا چاہیے۔ ہمیں اپنی ذات میں جوانمردی، سخاوت اور خوش اخلاقی کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر معاشرتی زندگی گزار سکیں۔
