یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی ایک عمیق بصیرت کی عکاسی کرتی ہے، جب آپ صفین سے واپس آتے ہوئے کوفہ کے قبرستان پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ موقع اس وقت کا ہے جب آپ نے کئی جنگوں میں حصہ لیا اور آپ کے ساتھیوں نے بہت سے عزیزوں کو کھو دیا۔ آپ نے ان لوگوں کی یاد میں یہ الفاظ کہے جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
آپ کی گفتگو میں 'وحشت افزا گھروں' اور 'اجڑے مکانوں' کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیا کی عارضیت اور اس کی فانی نوعیت کا احساس دلایا جا رہا ہے۔ آپ ان لوگوں سے مخاطب ہیں جو دنیا کی زندگی میں مشغول ہیں، اور ان کی یاد دلانے کے لئے کہ آپ کی موت کے بعد دنیا میں کیا ہوا۔ آپ کے الفاظ میں ایک درد ہے، جو ان لوگوں کی حالت زار کو بیان کرتا ہے جو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اب ان کے گھر دوسرے لوگوں کے لیے آباد ہو چکے ہیں، اور ان کی بیویاں دوسرے مردوں کے ساتھ ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہم سب کو ایک دن چلے جانا ہے۔ آپ کا یہ پیغام ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اصل کامیابی تقویٰ میں ہے۔
آپ کے الفاظ 'بہترین زاد راہ تقویٰ ہے' ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ حقیقی کامیابی آخرت کی تیاری میں ہے۔ تقویٰ انسان کو اللہ کی رضا حاصل کرنے کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت عارضی ہے، اور ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں تقویٰ کو اپنانا چاہیے، اپنے اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے، اور دنیا کی فانی خوشیوں سے زیادہ آخرت کی کامیابی کو مقدم رکھنا چاہیے۔
