حکمت (131) کی یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور گہرائی کا ثبوت ہے۔ اس حکمت میں دنیا کی فریب کاری اور اس کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب لوگوں نے دنیا کی مذمت کی، مگر خود دنیا کی زینت میں گرفتار تھے۔ امام علی (علیہ السلام) نے ان لوگوں کو یاد دلایا کہ دنیا کی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اس حکمت میں امام علی (علیہ السلام) دنیا کی فریب کاری کے بارے میں سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا واقعی دنیا نے ہمیں فریب دیا ہے؟ کیا ہم نے اپنی زندگی میں اپنے والدین کی موت یا بیماروں کی دیکھ بھال کے دوران کبھی دنیا کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کی؟ یہ سوالات ہمیں اپنی زندگی کے مقاصد پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
امام علی (علیہ السلام) نے دنیا کو ایک سچائی کا گھر قرار دیا ہے، جو اس کے فہم کو حاصل کرنے والوں کے لیے امن و عافیت کی منزل ہے۔ دنیا کو ایک ایسی جگہ سمجھا گیا ہے جہاں انسان اپنی آخرت کی تیاری کر سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جہاں عبادت، علم، اور نصیحت کا حصول ممکن ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دنیا کو صرف برائی کے طور پر دیکھنے کے بجائے، اس کی حقیقت کو سمجھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ دنیا کی فریب کاری سے بچنے کے لیے ہمیں اپنی نیت کو درست کرنا ہوگا اور دنیا کو ایک امتحان کے طور پر لینا ہوگا۔ جو لوگ دنیا کو سمجھ کر اس میں رہتے ہیں، وہ آخرت کی کامیابی کی طرف بڑھتے ہیں۔
