Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 133

تفصیلی وضاحت — حکمت (133) : دنیا «اصل منزل قرار کے لیے ایک گزرگاہ ہے۔ اس میں دو قسم کے لوگ ہیں : ایک وہ جنہوں نے اس میں اپنے نفس کو بیچ کر ہلاک کر دیا اور ایک وہ جنہوں نے اپنے نفس کو خرید کر آزاد کر دیا۔ (133- بے ثباتی دنیا)

حکمت (133) میں امام علی علیہ السلام دنیا کی فطرت اور اس کے اندر لوگوں کی دو اقسام کی وضاحت کرتے ہیں۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب لوگ دنیاوی زندگی کی عارضیت اور اس کی حقیقت کو بھول جاتے ہیں۔ امام فرماتے ہیں کہ دنیا اصل منزل نہیں بلکہ ایک گزرگاہ ہے، یعنی یہ ایک عارضی مقام ہے جہاں انسان کو اپنے اعمال کے ذریعے اپنی آخرت کی طرف بڑھنا ہے۔

امام علی علیہ السلام نے دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا ہے: ایک وہ جو اپنے نفس کو بیچ دیتے ہیں اور ہلاک ہو جاتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو دنیاوی لذتوں اور خواہشات کے پیچھے بھاگتے ہیں اور اپنی روحانی اور اخلاقی حالت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اپنے نفس کو خرید کر آزاد کر لیتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو اپنے اعمال کے ذریعے اپنی روحانی حالت کو بہتر بناتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کرتے ہیں۔

یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دنیاوی زندگی کی عارضیت کو سمجھنا ضروری ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پہچانے اور اپنے اعمال میں بہتری لانے کی کوشش کرے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی اہم ہے کہ ہم اپنی روحانی آزادی کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کریں اور دنیا کی عارضیت کو نظر انداز نہ کریں۔

اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنے وقت اور وسائل کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔ ہمیں دنیا کی عارضیت کے باوجود اپنے اعمال کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ ہم آخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم اس دنیا میں عارضی ہیں اور ہمیں اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔