(۱۳۴)
امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت دوستی کی حقیقی نوعیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ بیان اس وقت کی عکاسی کرتا ہے جب اسلامی معاشرہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا، اور دوستی اور بھائی چارے کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔ امام علی (ع) نے اس موقع پر یہ واضح کیا کہ حقیقی دوست وہ ہے جو اپنے بھائی کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑا ہو، اس کی غیر موجودگی میں اس کی حفاظت کرے، اور اس کی وفات کے بعد بھی اس کی یاد رکھے۔
یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ دوستی کی بنیاد صرف خوشیوں میں ساتھ دینا نہیں بلکہ مشکلات میں ایک دوسرے کا سہارا بننا بھی ہے۔ "مصیبت کے موقع پر" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حقیقی دوست وہ ہے جو مشکل وقت میں مدد کرتا ہے۔ "پس پشت" کا مطلب ہے کہ دوست کو اپنی غیر موجودگی میں بھی اپنے بھائی کی عزت اور حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ "مرنے کے بعد" کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دوستی کا رشتہ زندگی کے بعد بھی برقرار رہتا ہے، جیسے کہ یادیں اور دعائیں۔
اس حکمت کے ذریعے امام علی (ع) نے ہمیں یہ سکھایا کہ دوستی کی حقیقی قدر کو سمجھیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ ان کی مشکلات میں کھڑے رہیں۔ یہ نہ صرف ایک اخلاقی فرض ہے بلکہ ایک روحانی عمل بھی ہے۔ اس طرح ہم اپنے معاشرتی روابط کو مضبوط بنا سکتے ہیں اور ایک دوسرے کی مدد کر کے اپنی زندگیوں میں سکون اور خوشی لا سکتے ہیں۔
