حکمت (150) : ایک شخص نے آپ سے پند و موعظت کی درخواست کی تو فرمایا! تم کو ان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جب عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جب دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔ اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جب انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جب بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور روحانی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ انسان کو اپنی نیت اور عمل میں خلوص رکھنا چاہیے۔ اگر ہم صرف امیدیں باندھتے ہیں اور عمل سے دور رہتے ہیں تو ہم حقیقت میں خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ دنیا کی طلب میں زاہدوں کی مانند باتیں کرنا آسان ہے، مگر حقیقی زہد تو عمل میں ہے۔
امام علیہ السلام کا یہ کہنا کہ انسان دوسروں کو نصیحت کرتا ہے مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا، ہمیں اپنی حالت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ایک عام انسانی کمزوری ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں پر توجہ دیتے ہیں مگر اپنی خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس حکمت میں ہمیں خود احتسابی کی اہمیت کا درس ملتا ہے۔
مزید یہ کہ امام علیہ السلام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں خود کو ملامت کرنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے گناہوں کے بارے میں بے فکر رہیں گے، تو یہ ہماری روحانی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم موت سے ڈرتے ہیں مگر اپنے اعمال میں سستی کرتے ہیں، یہ ایک تضاد ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آخر میں، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں دنیاوی چیزوں کی طلب میں اعتدال رکھنا چاہیے اور آخرت کی کامیابی کے لیے اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عمل کے بغیر امیدیں باندھنا ایک فریب ہے، اور حقیقی کامیابی صرف عمل کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
