Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 150

تفصیلی وضاحت — حکمت (150) : ایک شخص نے آپ سے پند و موعظت کی درخواست کی ،تو فرمایا!تم کوان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جب عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر تو بہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جب دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جب انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جب بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں دوسروں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے اور دوسروں کو حکم دیتے ہیں ایسی باتوں کا جنہیں خود بجا نہیں لاتے نیکوں کو دوست رکھتے ہیں مگر ان کے سے اعمال نہیں کرتے اور گنہگاروں سے نفرت و عناد رکھتے ہیں حالانکہ وہ خود انہی میں داخل ہیں اپنے گناہوں کی کثرت کے باعث موت کو برا سمجھتے ہیں مگر جن گناہوں کی وجہ سے موت کو ناپسند کرتے ہیں انہی پر قائم ہیں۔اگر بیمار پڑتے ہیں تو پشیمان ہوتے ہیں۔ جب بیماری سے چھٹکارا پاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں۔اور مبتلا ہوتے ہیں تو ان پر مایوسی چھا جاتی ہے۔جب کسی سختی و ابتلا میں پڑتے ہیں تو لاچار و بے بس ہو کر دعائیں مانگتے ہیں اور جب فراخ دستی نصیب ہوتی ہے تو فریب میں مبتلا ہو کر منہ پھیر لیتے ہیں۔ان کا نفس خیالی باتوں پر انہیں قابو میں لے آتا ہے اور وہ یقینی باتوں پر اسے نہیں دبا لیتے۔دوسروں کے لیے گناہ سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے اپنے اعمال سے زیادہ جزا کے متوقع رہتے ہیں۔اگر مالدار ہو جاتے ہیں تو اترانے لگتے ہیں اور اگر فقیر ہو جاتے ہیں تو ناامید ہو جاتے ہیں اور سستی کرنے لگتے ہیں۔جب عمل کرتے ہیں تو اس میں سستی کرتے ہیں اور جب مانگنے پر آتے ہیں تو اصرار میں حد سے بڑھ جاتے ہیں۔اگر ان پر خواہش نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے تو گناہ جلد سے جلد کرتے ہیں ،اور توبہ کو تعویق میں ڈالتے رہتے ہیں ،اگر کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے تو جماعت اسلامی کے خصوصی امتیازات سے الگ ہو جاتے ہیں۔عبرت کے واقعات بیان کرتے ہیں مگر خود عبرت حاصل نہیں کرتے اور وعظ و نصیحت میں زور باندھتے ہیں مگر خود اس نصیحت کا اثر نہیں لیتے چنانچہ وہ بات کرنے میں تو اونچے رہتے ہیں۔مگر عمل میں کم ہی کم رہتے ہیں۔فانی چیزوں میں نفسی نفسی کرتے ہیں اور باقی رہنے والی چیزوں میں سہل انگاری سے کام لیتے ہیں وہ نفع کو نقصان اور نقصان کو نفع خیال کرتے ہیں۔موت سے ڈرتے ہیں۔مگر فرصت کا موقع نکل جانے سے پہلے اعمال میں جلدی نہیں کرتے۔دوسرے کے ایسے گناہ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں جس سے بڑے گناہ کو خود اپنے لیے چھوٹا خیال کرتے ہیں۔اور اپنی ایسی اطاعت کو زیادہ سمجھتے ہیں جسے دوسرے سے کم سمجھتے ہیں۔لہٰذا وہ لوگوں پر معترض ہوتے ہیں اور اپنے نفس کی چکنی چپڑی باتوں سے تعریف کرتے ہیں۔دولتمندوں کے ساتھ طرب و نشاط میں مشغول رہنا انہیں غریبوں کے ساتھ محفل ذکر میں شرکت سے زیادہ پسند ہے اپنے حق میں دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگاتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں کرتے کہ دوسرے کے حق میں اپنے خلاف حکم لگائیں۔اوروں کو ہدایت کرتے ہیں اور اپنے کو گمراہی کی راہ پر لگا تے ہیں وہ اطاعت لیتے ہیں اور خود نافرمانی کرتے ہیں اور حق پورا پورا وصول کر لیتے ہیں مگر خود انہیں کرتے۔وہ اپنے پروردگار کو نظر انداز کر کے مخلوق سے خوف کھاتے ہیں اور مخلوقات کے بارے میں اپنے پروردگار سے نہیں ڈرتے۔ (150- پندو موعظت)

حکمت (150) : ایک شخص نے آپ سے پند و موعظت کی درخواست کی تو فرمایا! تم کو ان لوگوں میں سے نہ ہونا چاہیے کہ جب عمل کے بغیر حسن انجام کی امید رکھتے ہیں اور امیدیں بڑھا کر توبہ کو تاخیر میں ڈال دیتے ہیں جب دنیا کے بارے میں زاہدوں کی سی باتیں کرتے ہیں مگر ان کے اعمال دنیا طلبوں کے سے ہوتے ہیں۔ اگر دنیا انہیں ملے تو وہ سیر نہیں ہوتے اور اگر نہ ملے تو قناعت نہیں کرتے جب انہیں ملا ہے اس پر شکر سے قاصر رہتے ہیں اور جب بچ رہا اس کے اضافہ کے خواہشمند رہتے ہیں۔

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور روحانی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ انسان کو اپنی نیت اور عمل میں خلوص رکھنا چاہیے۔ اگر ہم صرف امیدیں باندھتے ہیں اور عمل سے دور رہتے ہیں تو ہم حقیقت میں خود کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ دنیا کی طلب میں زاہدوں کی مانند باتیں کرنا آسان ہے، مگر حقیقی زہد تو عمل میں ہے۔

امام علیہ السلام کا یہ کہنا کہ انسان دوسروں کو نصیحت کرتا ہے مگر خود اس پر عمل نہیں کرتا، ہمیں اپنی حالت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ ایک عام انسانی کمزوری ہے کہ ہم دوسروں کی غلطیوں پر توجہ دیتے ہیں مگر اپنی خامیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اس حکمت میں ہمیں خود احتسابی کی اہمیت کا درس ملتا ہے۔

مزید یہ کہ امام علیہ السلام نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کے بارے میں خود کو ملامت کرنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے گناہوں کے بارے میں بے فکر رہیں گے، تو یہ ہماری روحانی بربادی کا سبب بن سکتا ہے۔ ہم موت سے ڈرتے ہیں مگر اپنے اعمال میں سستی کرتے ہیں، یہ ایک تضاد ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

آخر میں، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں دنیاوی چیزوں کی طلب میں اعتدال رکھنا چاہیے اور آخرت کی کامیابی کے لیے اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ عمل کے بغیر امیدیں باندھنا ایک فریب ہے، اور حقیقی کامیابی صرف عمل کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔