حکمت (154) میں امام علی (علیہ السلام) نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ کسی جماعت کے فعل پر رضا مند ہونا، دراصل اس فعل میں شریک ہونے کے مترادف ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جب لوگ اجتماعی طور پر کسی کام میں شامل ہوتے ہیں، چاہے وہ اچھا ہو یا برا۔ تاریخی تناظر میں، یہ بات اس وقت کی ہے جب اسلامی معاشرہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا اور لوگوں کے اعمال اور ان کی رضا مندی کی اہمیت بڑھ گئی تھی۔
یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی غلط کام میں شریک ہوتا ہے، تو اس پر دو گناہ ہیں: ایک تو اس عمل کا گناہ اور دوسرا اس عمل کی رضا مندی کا گناہ۔ یہ ایک اہم اخلاقی سبق ہے کہ ہمیں اپنی رضا مندی اور شرکت کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ اگر ہم کسی برے کام پر خاموش رہتے ہیں یا اس کی حمایت کرتے ہیں، تو ہم بھی اس کے گناہ میں شریک ہوتے ہیں۔
اس حکمت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ اجتماعی ذمہ داری کا احساس ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کے اثرات کو سمجھیں۔ اگر ہم کسی جماعت کے ساتھ ہیں، تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہ جماعت کس کام میں مشغول ہے۔ یہ ہمیں اپنی شناخت کو سمجھنے اور اپنی اخلاقی حیثیت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
اخلاقی اور روحانی لحاظ سے، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے اعمال اور خیالات میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ہمیں اپنی زبان کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے، کیونکہ ہماری رضا مندی یا ناپسندیدگی ہمارے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ہمیں اس بات کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے کہ ہم اپنے ارد گرد کے لوگوں کے اعمال پر نظر رکھیں اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات کو سمجھیں۔
