Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 155

تفصیلی وضاحت — حکمت (155) : عہد و پیمان کی ذمہ داریوں کو ان سے وابستہ کرو جو میخوں کے ایسے (مضبوط) ہوں۔ (155- عہد و پیمان)

یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور حکمت کی ایک مثال ہے جو عہد و پیمان کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ قول اس وقت کی عکاسی کرتا ہے جب اسلامی معاشرت میں عہد و پیمان کی پاسداری ضروری تھی۔ امام علی (ع) نے ہمیشہ اصولی اور اخلاقی بنیادوں پر فیصلے کیے، اور یہ حکمت ان کی اسی روش کی عکاسی کرتی ہے۔

اس حکمت میں 'میخوں' کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ عہد و پیمان کی ذمہ داریاں ان لوگوں کے سپرد کی جائیں جو مضبوط اور قابل اعتماد ہوں۔ یہ ایک اہم اصول ہے کہ کسی بھی عہد یا معاہدے کی ذمہ داری ان لوگوں کو دی جائے جو اس کے بوجھ کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ عہد و پیمان کی پاسداری میں مضبوطی اور استقامت ضروری ہے۔ اگر ذمہ داریاں کمزور لوگوں کے سپرد کی جائیں تو یہ عہد و پیمان ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی ایک اخلاقی سبق ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور انہیں ان لوگوں کے سپرد کرنا چاہیے جو ان کی اہمیت کو سمجھتے ہوں۔

عملی طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی قابلیت اور مضبوطی کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہمیں ان لوگوں کو منتخب کرنا چاہیے جو عہد و پیمان کی پاسداری میں مضبوط ہوں، چاہے وہ معاشرتی، کاروباری یا ذاتی معاملات ہوں۔ یہ ایک اہم حکمت عملی ہے جو کامیابی کی ضمانت دیتی ہے۔