حکمت (175) : جب کسی امر سے دہشت محسوس کرو تو اس میں پھاند پڑو، اس لیے کہ کھٹکا لگا رہنا اس ضرر سے کہ جس کا خوف ہے، زیادہ تکلیف دہ چیز ہے۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بے نظیر بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ تاریخی طور پر، یہ اقوال اس وقت کے ہیں جب امام علی علیہ السلام نے مسلمانوں کو مختلف چیلنجز اور مشکلات کا سامنا کرنے کی ترغیب دی۔ یہ دور ان کے خلافت کے ابتدائی ایام کا تھا جب اسلامی معاشرہ کئی داخلی اور خارجی خطرات کا سامنا کر رہا تھا۔
اس حکمت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ خوف کا سامنا کرنا بہتر ہے بجائے اس کے کہ ہم خوف کی حالت میں رہیں۔ امام علی علیہ السلام ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ جب ہم کسی چیز سے ڈرتے ہیں تو ہمیں اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے جو ہمیں اپنی کمزوریوں اور خوفوں کا سامنا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔
کئی اہم جملے اس حکمت میں موجود ہیں، جیسے "کھٹکا لگا رہنا"۔ یہ جملہ ہمیں بتاتا ہے کہ خوف کی حالت میں رہنا خود ایک عذاب ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو انسان کی زندگی میں مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر ہم اپنے خوف کا سامنا کریں تو ہم اس کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔
اخلاقی اور روحانی طور پر، یہ حکمت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے خوفوں کا سامنا کرنے کی ہمت رکھنی چاہیے۔ یہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے میں ہی ہماری قوت اور ترقی پوشیدہ ہے۔ عملی طور پر، جب ہم کسی چیلنج کا سامنا کرتے ہیں، تو ہمیں اس میں پھاندنے کی ہمت کرنی چاہیے، کیونکہ یہی راستہ ہمیں کامیابی کی طرف لے جائے گا۔
