حکمت 182 میں امام علی (علیہ السلام) نے خاموشی اور گویائی کے بارے میں ایک اہم نقطہ بیان کیا ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ حکیمانہ باتوں کے بارے میں خاموش رہنے میں کوئی بھلائی نہیں ہے، جیسے کہ جہالت کی باتوں پر بولنے میں کوئی اچھائی نہیں۔ یہ بیان خاص طور پر اس وقت کے لیے ہے جب علم اور حکمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام علی (ع) نے اپنی زندگی میں ہمیشہ علم کی ترویج کی اور جہالت کے خلاف آواز اٹھائی۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ہمارے پاس علم ہے تو ہمیں اسے بیان کرنے سے نہیں گریز کرنا چاہیے۔ خاموش رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم صحیح بات کو تسلیم نہیں کرتے، بلکہ یہ ایک قسم کی غفلت ہو سکتی ہے۔ امام علی (ع) نے ہمیشہ حق کی بات کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، چاہے وہ کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔
اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ جہالت کی باتوں پر بولنا بھی بے فائدہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں اپنے الفاظ کا انتخاب کرتے وقت بہت محتاط رہنا چاہیے، اور ہمیں علم کی بنیاد پر بات کرنی چاہیے۔ اس طرح ہم اپنی معاشرتی ذمہ داریوں کو بہتر طور پر نبھا سکتے ہیں۔
امام علی (ع) کی یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ خاموشی کبھی کبھی بہتر ہوتی ہے، لیکن یہ خاموشی علم کی کمی کی وجہ سے نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں ہمیشہ حق کی بات کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور جب ہمیں علم ہو تو ہمیں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔
