حکمت (183) میں امام علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ جب دو مختلف دعوتیں ہوں گی تو ان میں سے ایک ضرور گمراہی کی دعوت ہو گی۔ یہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی میں جب بھی ہمیں مختلف نظریات یا دعوتوں کا سامنا ہوتا ہے، تو ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ ان میں سے ایک راستہ درست اور دوسرا غلط ہوگا۔
تاریخی تناظر میں، یہ حکمت اس وقت کے حالات کی عکاسی کرتی ہے جب لوگ مختلف فرقوں اور نظریات میں بٹے ہوئے تھے۔ امام علی (ع) نے اپنی زندگی میں بارہا حق و باطل کی پہچان کے لیے لوگوں کو آگاہ کیا۔ اس حکمت کے ذریعے وہ ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں حق کی تلاش میں مستقل رہنا چاہیے اور ہر دعوت کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔
اس حکمت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انسان کو اپنی عقل و فہم کا استعمال کرتے ہوئے حق و باطل میں تمیز کرنی چاہیے۔ یہ صرف مذہبی یا سیاسی دعوتوں تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں درست فیصلہ کرنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ حق کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور باطل سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ، یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جب ہم دو مختلف راستوں کا سامنا کرتے ہیں، تو ہمیں اپنی ذاتی خواہشات اور جذبات سے بالاتر ہو کر صحیح راستے کا انتخاب کرنا چاہیے۔
