Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 186

تفصیلی وضاحت — حکمت (186) : ظلم میں پہل کرنے والا کل (مذامت سے) اپنا ہاتھ اپنے دانتوں سے کاٹتا ہو گا۔ (186- ظلم کا انجام)

حکمت (186) میں امام علی (علیہ السلام) ظلم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور اس کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب انسانی معاشرت میں ظلم و ستم کا دور دورہ تھا، اور امام علی (ع) نے اپنی زندگی میں کئی بار اس کا سامنا کیا۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ ظلم کرنے والے لوگ کل کو اپنی غلطیوں پر نادم ہوں گے۔

اس حکمت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے۔ ظلم کرنے والا شخص اپنے اعمال کی سزا بھگتتا ہے اور اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے۔ امام علی (ع) اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جو شخص ظلم میں پہل کرتا ہے، وہ کل کو اپنے ہاتھ کو اپنے دانتوں سے کاٹنے پر مجبور ہوگا، یعنی وہ اپنی غلطیوں کا احساس کرے گا اور اس کے نتیجے میں خود کو نقصان پہنچائے گا۔

اس حکمت میں ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ظلم کا اثر صرف مظلوم پر نہیں ہوتا، بلکہ ظالم بھی اس کے نتائج بھگتتا ہے۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ انسان کو ظلم سے بچنا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے۔ اس میں ایک عملی نصیحت بھی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ظلم کو ختم کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہم اپنے دل سے نفرت اور کینہ نکال سکیں۔

اس حکمت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنے اندر کی برائیوں کو دور کرنا چاہیے، تاکہ ہم دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کر سکیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ہم اپنے دل سے نفرت اور کینہ نکال دیں گے، تو ہم دوسروں کے دلوں سے بھی ان برائیوں کو نکال سکیں گے۔