حکمت (187): چل چلاؤ قریب ہے۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی ایک عمیق بصیرت کو ظاہر کرتی ہے جو انسانی نفسیات اور سماجی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ قول ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جب انسان اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑ جاتا ہے تو وہ صحیح رائے کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں لوگوں کو ہدایت کی اور ان کی رہنمائی کی، خاص طور پر جب وہ خلافت کے دور میں تھے۔
اس حکمت کا مرکزی موضوع انسان کی فطرت ہے، جہاں ضد اور ہٹ دھرمی کو ایک منفی صفت سمجھا گیا ہے۔ امام علی علیہ السلام ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ اگر ہم اپنی رائے میں اڑ جائیں تو ہم نہ صرف دوسروں کی رائے کو نظر انداز کرتے ہیں بلکہ اپنی عقل اور دانش کو بھی کھو دیتے ہیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ ہمیں اپنی سوچ میں لچک رکھنی چاہیے اور دوسروں کی رائے کو سننے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
اہم جملہ "چل چلاؤ قریب ہے" ہمیں یہ بتاتا ہے کہ زندگی کی رفتار تیز ہے، اور ہمیں اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے قیمتی مواقع کو کھونے سے بچنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے فیصلوں میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ غور و فکر کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے۔
اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی کمزوریوں کا ادراک کرنا چاہیے اور اپنی سوچ کو کھلا رکھنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی رائے میں نرمی اختیار کریں اور دوسروں کی باتوں کو سننے کی کوشش کریں۔ یہ نہ صرف ہماری ذاتی ترقی کے لیے مفید ہے بلکہ ہمیں ایک بہتر معاشرتی فرد بھی بناتا ہے۔
