Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 188

تفصیلی وضاحت — حکمت (188) : جو حق سے منہ موڑ تا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔ (188- حق سے رو گردانی)

حکمت (188): جو حق سے منہ موڑتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔

یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور حکمت کا ایک عمدہ نمونہ ہے۔ یہ قول ہمیں اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جب انسان حق سے منہ موڑتا ہے، تو وہ اپنی تباہی کا سامان خود ہی تیار کرتا ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں حق اور باطل کے درمیان واضح تفریق کی۔ جب لوگوں نے حق سے منہ موڑا، تو ان کی قومیں اور معاشرے تباہ ہو گئے۔

اس حکمت میں کئی اہم موضوعات پوشیدہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ حق کی پہچان اور اس کی طرف رجوع کرنا انسانی زندگی کی بنیاد ہے۔ دوسرا یہ کہ جو لوگ حق کی راہ سے ہٹتے ہیں، وہ اپنی زندگی میں ناکامی اور ذلت کا سامنا کرتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے ہمیشہ حق کی طرف رہنمائی کی اور لوگوں کو اس کی اہمیت سمجھائی۔

کچھ اہم الفاظ اور جملے اس حکمت میں شامل ہیں: "حق"، "منہ موڑنا"، "تباہ ہونا"۔ یہ الفاظ ہمیں یہ سمجھاتے ہیں کہ حق کی شناخت اور اس کی پیروی کرنا انسان کی فلاح کا ذریعہ ہے۔

اخلاقی اور روحانی سبق یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ حق کی راہ پر چلنا چاہیے، چاہے حالات کیسے بھی ہوں۔ اگر ہم حق سے منہ موڑیں گے، تو نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنے معاشرے کو بھی نقصان پہنچائیں گے۔ اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں حق کی تلاش اور اس کی پیروی کرنی چاہیے۔