حکمت (189) : جسے صبر رہائی نہیں دلاتا، اسے بے تابی و بے قرار ی ہلاک کر دیتی ہے۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ان گنت اقوال میں سے ایک ہے جو انسانی نفسیات اور زندگی کے چیلنجز کی گہرائیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ قول ہمیں صبر کی اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے، خاص طور پر ایسے وقتوں میں جب ہم مشکلات کا سامنا کر رہے ہوں۔ صبر، ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو مشکلات کے وقت میں سکون اور استقامت عطا کرتی ہے۔
تاریخی تناظر میں، امام علی (علیہ السلام) کا دور وہ تھا جب اسلامی معاشرہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا، جیسے کہ داخلی اختلافات اور بیرونی حملے۔ اس وقت لوگوں کی بے صبری اور بے قراری نے ان کے فیصلوں کو متاثر کیا۔ امام علی (علیہ السلام) نے اس حکمت کے ذریعے لوگوں کو یہ سکھانے کی کوشش کی کہ اگر وہ صبر نہیں کریں گے تو ان کی بے صبری انہیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اس قول میں 'بے تابی' اور 'بے قراری' جیسے الفاظ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ انسان کی فطرت میں مشکلات کے وقت بے چینی پیدا ہونا ایک عام بات ہے۔ لیکن امام علی (علیہ السلام) ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اگر ہم صبر کا دامن تھامے رکھیں تو یہ ہمیں ان مشکلات سے نکال سکتی ہے۔
اخلاقی اور روحانی طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ صبر کا راستہ اختیار کرنا ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ بے صبری اور بے قراری کی حالت میں ہم اکثر غلط فیصلے کرتے ہیں، جو ہمیں مزید مشکلات میں ڈال دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، صبر ہمیں درست فیصلے کرنے کی طاقت دیتا ہے اور ہمیں سکون عطا کرتا ہے۔
عملی طور پر، اس حکمت کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے چیلنجز کا سامنا کرتے وقت صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چاہے وہ ذاتی مسائل ہوں یا معاشرتی چیلنجز، صبر ہمیں ان سے نبرد آزما ہونے کی طاقت دیتا ہے۔
