حکمت (190) میں امام علی علیہ السلام نے خلافت کے معیار پر سوال اٹھایا ہے۔ یہ الفاظ اس وقت کے سیاسی تناظر میں بہت اہمیت رکھتے ہیں جب اسلامی معاشرہ خلافت کے مسئلے میں تقسیم ہو رہا تھا۔ امام علی علیہ السلام نے یہ بات اس وقت کہی جب لوگوں نے خلافت کو صرف صحابیت اور قرابت کی بنیاد پر سمجھنا شروع کر دیا تھا۔ اس حکمت میں امام نے واضح کیا کہ یہ دونوں عوامل ہی خلافت کے لیے کافی نہیں ہیں، بلکہ اس کے لیے علم، تقویٰ، اور عدل بھی ضروری ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے اس حکمت کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ اگر کسی کو شوریٰ میں شامل ہونے کا حق دیا گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر معاملے میں درست ہے۔ اگر مشورہ دینے والے افراد موجود نہیں ہیں تو ان کی رائے کو اہمیت نہیں دی جانی چاہیے۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ فیصلہ سازی میں صرف قریبی رشتہ یا سابقہ تعلقات کو نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگر کسی کے پاس علم اور بصیرت نہیں ہے تو وہ خلافت کے عہدے کے لیے اہل نہیں ہو سکتا، چاہے وہ نبی ﷺ کے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ اس طرح امام علی علیہ السلام نے خلافت کی بنیادیں مضبوط کرنے کی کوشش کی، جو کہ علم اور اخلاق پر مبنی ہوں۔
اس حکمت کا عملی سبق یہ ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں علم اور بصیرت کو مقدم رکھنا چاہیے۔ ہمیں ایسے لوگوں کو آگے بڑھانا چاہیے جو علم، تجربہ، اور تقویٰ کے حامل ہوں، نہ کہ صرف رشتہ داری یا سابقہ تعلقات کی بنیاد پر۔ یہ بات ہمیں اسلامی معاشرت میں عدل و انصاف کی اہمیت کو سمجھاتی ہے۔
