حکمت (191) میں امام علی (علیہ السلام) انسان کی زندگی کی عارضیت اور دنیا کی فطرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب انسان کی زندگی کا ہر لمحہ موت کی طرف بڑھتا ہے اور ہر نعمت کی موجودگی میں ایک اور نعمت کی جدائی کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بیان ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو مصیبتوں اور ابتلاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
امام علی (علیہ السلام) نے یہ کہا کہ انسان کی زندگی میں ہر گھونٹ اور ہر لقمہ میں مشکلات اور چیلنجز موجود ہیں۔ یہ ایک طرح کی حقیقت ہے کہ انسان کو ایک نعمت ملتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی دوسری نعمت کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ یہ بات ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی ہر چیز عارضی ہے اور ہمیں اس کی فطرت کو سمجھنا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ انسان کی عمر کا ہر دن اس کی زندگی کے دنوں کی تعداد کو کم کرتا ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم سب موت کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اس کا سامنا کرنا ہے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ ہم ہمیشہ ہلاکت کی زد میں ہیں۔
امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی حالت ایسی ہے کہ ہم جو بھی بناتے ہیں، وہ جلد ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک عارضی دنیا ہے جہاں ہم اپنی کوششوں کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کو قیمتی سمجھنا چاہیے اور اس کا صحیح استعمال کرنا چاہیے۔
