حکمت (۲۰۱) میں امام علی علیہ السلام نے انسانی زندگی کی حفاظت اور تقدیر کے بارے میں ایک عمیق حقیقت بیان کی ہے۔ یہ حکمت اس وقت کی ہے جب انسان کی زندگی میں دو فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں، جو اس کے اعمال کی نگرانی کرتے ہیں۔ یہ فرشتے انسان کے ساتھ رہتے ہیں اور جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ اس کے اور موت کے درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ موت ایک مقدر ہے اور اس سے بچنا ممکن نہیں ہے۔
اس حکمت میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کی عمر ایک مضبوط سپر کی مانند ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہر انسان کی زندگی میں ایک مقررہ وقت ہوتا ہے، جو اس کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کی قدر کرنی چاہیے اور اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ جب تک انسان کی عمر مکمل نہیں ہوتی، وہ اپنے فرشتوں کی حفاظت میں رہتا ہے۔
اس حکمت کی روحانی اور اخلاقی سبق یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں اچھے اعمال کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ یہ اعمال ہی ہیں جو اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ موت کا وقت آنا ہے، اور اس کے آنے سے پہلے اسے اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ اللہ کی رحمت ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے، اور ہمیں اپنے اعمال کے ساتھ ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
