Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 202

تفصیلی وضاحت — حکمت (202) : طلحہ و زبیر نے حضرت سے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کرتے ہیں کہ اس حکومت میں آپ کے ساتھ شریک رہیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ تم تقویت پہنچانے اور ہاتھ بٹانے میں شریک اور عاجزی اور سختی کے موقع پر مددگار ہو گے۔ (202- بجواب طلحہ و زبیر)

حکمت (202) میں حضرت علیؑ کا یہ قول طلحہ اور زبیر کے ساتھ ایک اہم تاریخی موقع پر سامنے آیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت علیؑ نے خلافت سنبھالی، اور کچھ صحابہ نے ان سے یہ شرط رکھی کہ وہ حکومت میں ان کے ساتھ شریک رہیں گے۔ حضرت علیؑ نے اس پر واضح کیا کہ ان کی بیعت کا مقصد صرف اقتدار میں شریک ہونا نہیں بلکہ ان کی مدد کرنا، عاجزی دکھانا اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔

اس حکمت میں بنیادی موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ قیادت صرف عہدے کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ ذمہ داری اور اخلاقی اقدار بھی جڑی ہوئی ہیں۔ حضرت علیؑ نے یہ بات واضح کی کہ حقیقی شراکت داری میں طاقت کا استعمال نہیں بلکہ ایک دوسرے کی مدد کرنا اور مشکلات کا سامنا کرنا شامل ہے۔

اس قول میں "تقویت پہنچانے" اور "ہاتھ بٹانے" جیسے اہم الفاظ ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قیادت میں صرف ذاتی مفادات نہیں دیکھے جانے چاہیے بلکہ اجتماعی بہبود کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ یہ پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی جماعت یا قوم کی کامیابی اس کے افراد کی باہمی مدد اور قربانی میں ہے۔

اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ قیادت میں صرف عہدے کا حصول نہیں بلکہ اس کے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی آتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کی مدد کریں، خاص طور پر مشکل وقت میں، اور اپنی طاقت کو دوسروں کی بہتری کے لیے استعمال کریں۔