حکمت (203) میں امام علی (علیہ السلام) لوگوں کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرتے ہیں۔ یہ نصیحت اس وقت کی گئی جب معاشرہ مختلف اخلاقی اور روحانی چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ اللہ ہر چیز کو سنتا اور جانتا ہے، چاہے وہ الفاظ ہوں یا دل کی گہرائیوں میں چھپے خیالات۔
اس حکمت کا مرکزی موضوع موت کی حقیقت اور اس کی ناگزیریت ہے۔ امام (ع) لوگوں کو یہ سمجھاتے ہیں کہ موت سے بھاگنا ممکن نہیں، بلکہ یہ ہر ایک کے قریب ہے۔ جو لوگ موت کو بھولنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ یہ ایک طاقتور پیغام ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کی تیاری کرنی چاہیے، کیونکہ موت کسی بھی وقت آ سکتی ہے۔
امام (ع) کی یہ نصیحت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم جو بھی کریں، اللہ ہماری ہر بات اور ہر خیال کو جانتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی نیتوں اور اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے، اور موت کی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
