امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت ہمیں انسانی تعلقات اور نیکی کی قدر کرنے کی اہمیت کا درس دیتی ہے۔ یہ قول اس وقت کے معاشرتی پس منظر میں پیش کیا گیا جب لوگوں کے درمیان شکرگزاری اور حسن سلوک کی قدر میں کمی آ رہی تھی۔ امام علی (ع) نے اس حکمت کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ نیکی کرنے کے باوجود اگر کوئی شخص ہماری نیکی کا شکر گزار نہیں ہوتا تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ نیکی کا عمل خود کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ دوسروں کی تعریف یا شکرگزاری کے لیے۔ بعض اوقات، وہ لوگ جنہوں نے ہمارے حسن سلوک کا فائدہ نہیں اٹھایا، وہ ہماری نیکی کی قدر کریں گے۔ اس کے برعکس، ناشکرے لوگ ہماری نیکیوں کو نظر انداز کر سکتے ہیں، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں نیکی کرنے سے رک جانا چاہیے۔
امام علی (ع) فرماتے ہیں کہ اصل قدر دانی اس شخص سے حاصل کی جا سکتی ہے جو ہماری نیکیوں کی قدر کرتا ہے، چاہے وہ شخص ہم سے براہ راست فائدہ نہ اٹھائے۔ اس کے ساتھ ہی، یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خدا نیک اعمال کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نیکیوں کا اجر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے، اور ہمیں اپنی نیکیوں کی قدر کرنی چاہیے، چاہے دوسروں کی طرف سے شکرگزاری نہ ہو۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں نیکی کرنے میں مستقل رہنا چاہیے، چاہے ہمیں فوری طور پر شکرگزاری یا تعریف نہ ملے۔ ہمیں اپنے اعمال کی نیت خالص رکھنی چاہیے اور اللہ کی رضا کے لیے نیکیاں کرنی چاہئیں۔ یہ حکمت ہمیں سکھاتی ہے کہ نیکی کا عمل کبھی ضائع نہیں جاتا، بلکہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں واپس آتا ہے۔
