حکمت (205) میں امام علی علیہ السلام نے علم کی اہمیت اور اس کی وسعت کی وضاحت کی ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ ہر چیز، جو کسی ظرف میں رکھی جاتی ہے، اس ظرف کی گنجائش کو محدود کرتی ہے۔ مثلاً، جب کوئی چیز کسی برتن میں رکھی جاتی ہے تو وہ برتن بھر جاتا ہے اور اس کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن علم کا ظرف اس کے برعکس ہے؛ جتنا زیادہ علم حاصل کیا جائے، اتنا ہی یہ وسیع ہوتا جاتا ہے۔
یہ حکمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علم کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ علم نہ صرف انسان کی سوچ کو وسعت دیتا ہے بلکہ اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو بھی بہتر بناتا ہے۔ یہ ایک ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا، بلکہ جتنا زیادہ آپ اس میں اضافہ کرتے ہیں، اتنا ہی یہ بڑھتا ہے۔
اس حکمت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ علم انسان کو اپنے ارد گرد کی دنیا کو بہتر طور پر سمجھنے کی صلاحیت دیتا ہے۔ یہ انسان کی روحانی ترقی کا بھی ذریعہ ہے۔ علم کی طلب ایک ایسی چیز ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے اور اس کا حصول زندگی کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔
امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ علم کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ علم کی طلب کبھی ختم نہیں ہونی چاہیے، چاہے وہ دنیاوی علم ہو یا دینی علم۔ اس کے ساتھ ہی، علم کی روشنی میں ہم اپنے اخلاق، کردار اور عمل کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔
