حکمت (220): یہ انصاف نہیں ہے کہ صرف ظن و گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی جانب سے دی گئی ہے، جو کہ ان کے دور کے عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ قول اس وقت کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے جب لوگوں کے درمیان فیصلے کرنے میں صحیح معلومات کی ضرورت ہوتی ہے۔ امام علی (ع) نے ہمیشہ حق و انصاف کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی تلقین کی ہے، اور یہ حکمت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بے بنیاد شک و شبہات پر فیصلے کرنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ معاشرتی انصاف کو بھی متاثر کرتا ہے۔
اس حکمت میں ایک اہم موضوع یہ ہے کہ ظن و گمان کی بنیاد پر فیصلے کرنا انسانی عقل کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ جب لوگ محض شک و شبہات کی بنیاد پر کسی کے بارے میں رائے قائم کرتے ہیں تو یہ ان کی عقل کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ امام علی (ع) نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ عقل کو ہمیشہ صحیح معلومات کی بنیاد پر فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ حکمت ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں ہمیشہ حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں دوسروں کے بارے میں اچھی سوچ رکھنی چاہیے اور بغیر کسی ٹھوس دلیل کے کسی کے بارے میں رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے فیصلوں کو بہتر بناتے ہیں بلکہ اپنے معاشرتی تعلقات کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
عملی طور پر، اس حکمت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہمیشہ تحقیق کرنی چاہیے، اور جب بھی کسی معاملے میں فیصلہ کرنا ہو تو صرف اپنی سوچ یا دوسروں کی باتوں پر اعتماد نہ کریں۔ یہ ہمیں ایک بہتر انسان اور ایک اچھے معاشرتی رکن بننے میں مدد دے گا۔
