حکمت (221) میں امام علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: "آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگان خدا پر ظلم و تعدی کرنا۔" یہ حکمت انسانی معاشرت میں عدل و انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں کئی بار ظلم و تعدی کے خلاف آواز اٹھائی، خاص طور پر جب وہ خلافت کے منصب پر فائز ہوئے۔
اس حکمت میں بنیادی موضوع یہ ہے کہ ظلم کا انجام ہمیشہ برا ہوتا ہے، خاص طور پر آخرت میں۔ ظلم کرنے والا نہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ اس کے اعمال کا اثر اس کے معاشرتی تعلقات پر بھی پڑتا ہے۔ "بندگان خدا" کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہر انسان اللہ کی مخلوق ہے اور اس پر ظلم کرنا دراصل اللہ کی مخلوق کے ساتھ ناحق سلوک کرنے کے مترادف ہے۔
اس حکمت میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ ظلم و تعدی کی عادت انسان کو آخرت میں سخت عذاب کا سامنا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا میں جو بھی ظلم کرتا ہے، اس کا حساب آخرت میں دینا ہوگا۔ اس لیے ہمیں ہمیشہ انصاف اور برابری کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
عملی طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور کسی بھی صورت میں ظلم سے بچنے کی کوشش کریں۔ ہمیں اپنے معاشرتی رویوں میں عدل و انصاف کو اپنانا چاہیے تاکہ ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں۔
