Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 234

تفصیلی وضاحت — حکمت (234) : عورتوں کی بہتر ین خصلتیں وہ ہیں جو مردوں کی بدترین صفتیں ہیں۔ غرور، بزدلی اور کنجوسی اس لیے کہ عورت جب مغرور ہو گی، تو وہ کسی کو اپنے نفس پر قابو نہ دے گی اور کنجوس ہو گی تو اپنے اور شوہر کے مال کی حفاظت کرے گی اور بزدل ہو گی تو وہ ہر اس چیز سے ڈرے گی جو پیش آئے گی۔ (234- عورت و مرد کے صفات)

حکمت (234) میں امام علی (علیہ السلام) نے عورتوں کی کچھ ایسی خصوصیات کا ذکر کیا ہے جو مردوں کی بدترین صفات کے ساتھ موازنہ کی گئی ہیں: غرور، بزدلی، اور کنجوسی۔ یہ حکمت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اگرچہ یہ صفات منفی ہیں، لیکن ان کا ایک خاص تناظر میں ذکر کیا گیا ہے۔ تاریخی طور پر، یہ حکمت اس وقت کی عکاسی کرتی ہے جب معاشرتی روایات میں عورتوں کے کردار کو محدود سمجھا جاتا تھا۔ امام علی (علیہ السلام) نے ان خصوصیات کے ذریعے ایک اہم پیغام دیا ہے کہ عورتوں کی کامیابی ان کی ان خصلتوں کی عدم موجودگی میں ہے۔

غرور ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو خودپسند بنا دیتی ہے۔ جب ایک عورت مغرور ہوتی ہے، تو وہ اپنے نفس پر قابو نہیں رکھ پاتی، جو کہ ایک مہلک خامی ہے۔ اس کے برعکس، اگر وہ عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرے تو وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لئے ایک بہتر ماحول فراہم کر سکتی ہے۔

کنجوسی کی بات کرتے ہوئے، امام علی (علیہ السلام) نے یہ واضح کیا کہ اگرچہ کنجوس ہونا ایک منفی صفت ہے، لیکن اگر یہ عورت کے اندر ہو تو یہ اس کے اور اس کے شوہر کے مال کی حفاظت کر سکتی ہے۔ اس طرح، یہ صفت ایک مثبت پہلو بھی رکھ سکتی ہے، بشرطیکہ یہ حد سے تجاوز نہ کرے۔

بزدلی کا ذکر کرتے ہوئے، امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم نکتہ پیش کیا ہے کہ اگر ایک عورت بزدل ہو گی تو وہ ہر چھوٹی بڑی چیز سے خوفزدہ ہو جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کو بہادری اور ہمت کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ وہ مشکلات کا سامنا کر سکے۔

آخر میں، یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان کی حقیقی عظمت اس کی صفات میں ہے۔ ہمیں اپنی خصوصیات کا جائزہ لینا چاہئے اور ان میں بہتری لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ یہ نہ صرف ہمارے لئے بلکہ ہمارے معاشرے کے لئے بھی فائدہ مند ہوگا۔