Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 235

تفصیلی وضاحت — حکمت (235) : آپ علیہ السّلام سے عرض کیا گیا کہ عقلمند کے اوصاف بیان کیجئے۔ فرمایا! عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔ پھر آپ سے کہا گیا کہ جاہل کا وصف بتایئے تو فرمایا میں بیان کر چکا۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ مقصد یہ ہے کہ جاہل وہ ہے جو کسی چیز کو اس کے موقع و محل پر نہ رکھے۔ گویا حضرت کا اسے نہ بیان کر نا ہی بیان کرنا ہے۔ کیونکہ اس کے اوصاف عقلمند کے اوصاف کے برعکس ہیں۔ (235- عاقل و جاہل)

حکمت (235) میں امام علی علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ عقلمند کے اوصاف کیا ہیں؟ آپ نے فرمایا: "عقلمند وہ ہے جو ہر چیز کو اس کے موقع و محل پر رکھے۔" یہ بیان دراصل عقل کی ایک بنیادی تعریف ہے جس میں کسی چیز کی صحیح جگہ پر اس کا استعمال اور اس کی اہمیت کو سمجھنے کی بات کی گئی ہے۔ یہ حکمت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عقلمند شخص وہ ہے جو حالات کی نزاکت کو سمجھتا ہے اور ہر موقع پر مناسب فیصلہ کرتا ہے۔

جب آپ سے جاہل کا وصف پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "میں بیان کر چکا۔" یہ جواب اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جاہل وہ ہے جو چیزوں کو ان کے صحیح مقام پر نہیں رکھتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جاہل کی شناخت اس کی عقل کی کمی اور فیصلوں کی غلطی سے ہوتی ہے۔ اس حکمت میں امام علیہ السلام نے جاہل کے اوصاف کو عقلمند کے اوصاف کے برعکس پیش کیا ہے، جو ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عقل اور جہالت کے درمیان کی لکیر کتنی واضح ہے۔

اس حکمت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں ہر چیز کی ایک جگہ اور وقت ہوتا ہے۔ ہمیں ہمیشہ یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے فیصلے اور اعمال کس طرح کے حالات میں کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ ہمیں اپنی عقل کو استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے تاکہ ہم بہتر فیصلے کر سکیں اور اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔

اس حکمت کے عملی پہلو میں ہمیں یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں غور و فکر کرنا چاہیے اور اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے صحیح فیصلے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ نہ صرف ہماری ذاتی زندگی میں بلکہ معاشرتی زندگی میں بھی بہت اہم ہے۔