حکمت (237) میں امام علی (علیہ السلام) نے عبادت کے مختلف اقسام کو بیان کیا ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ایک جماعت اللہ کی عبادت ثواب کی رغبت و خواہش کے پیشِ نظر کرتی ہے، جو کہ 'سودا کرنے والوں کی عبادت' کہلاتی ہے۔ یہ لوگ اس امید میں عبادت کرتے ہیں کہ انہیں اللہ کی رضا اور جنت کا انعام ملے گا۔
دوسری جماعت خوف کی وجہ سے عبادت کرتی ہے، جسے 'غلاموں کی عبادت' کہا گیا ہے۔ یہ لوگ اللہ کی عذاب سے ڈرتے ہیں اور اس خوف کی بنا پر عبادت کرتے ہیں۔ یہ ایک کمزور سطح کی عبادت ہے کیونکہ اس میں محبت کا عنصر کم ہے۔
تیسری جماعت شکر و سپاس گزاری کی بنیاد پر عبادت کرتی ہے، جو کہ 'آزادوں کی عبادت' کہلاتی ہے۔ یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنے دل میں اللہ کی محبت رکھتے ہیں۔ یہ سب سے اعلیٰ اور حقیقی عبادت ہے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ عبادت کا مقصد صرف خوف یا ثواب کی طلب نہیں ہونی چاہیے، بلکہ ہمیں اللہ کی محبت اور شکر گزاری کی بنیاد پر عبادت کرنی چاہیے۔ اس کے ذریعے ہم اپنی روحانی حالت کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کے قریب جا سکتے ہیں۔
امام علی (علیہ السلام) کی یہ حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حقیقی عبادت کی پہچان اس کے مقصد میں ہے۔ ہمیں اپنی عبادت کو خالص نیت کے ساتھ کرنا چاہیے اور اللہ کی رضا کو اپنی عبادت کا حقیقی مقصد بنانا چاہیے۔
