حکمت (252) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایمان، نماز، زکوة، روزہ، حج، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، حقوقِ قرابت، قصاص، حدود شرعیہ، شراب خوری، چوری، زنا، اغلام، گواہی، جھوٹ، قیامِ امن، امانتوں کی حفاظت اور اطاعت جیسے اہم فرائض کی وضاحت کی ہے۔ یہ فرائض نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی زندگی میں بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
تاریخی پس منظر میں، یہ حکمت اس دور کی ہے جب اسلامی معاشرہ اپنی بنیادوں کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امام علی (ع) نے معاشرتی و اخلاقی اصلاحات کی ضرورت کو محسوس کیا اور ان فرائض کو عائد کیا تاکہ لوگوں کی روحانی اور اخلاقی حالت کو بہتر بنایا جا سکے۔
اس حکمت میں ایمان کو شرک کی آلودگیوں سے پاک کرنے کے لیے فرض کیا گیا ہے، جو کہ ایک اہم روحانی پیغام ہے۔ نماز کو رعونت سے بچانے کے لیے فرض کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنے رب کے سامنے عاجزی کا مظاہرہ کر سکے۔ زکوة، جو کہ مال کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے، رزق میں اضافہ کا سبب بنتی ہے۔
روزہ مخلوق کے اخلاص کو آزمانے کے لیے ہے، جو کہ ایک فرد کی روحانی قوت کو بڑھاتا ہے۔ حج دین کی تقویت کا ذریعہ ہے، جبکہ جہاد اسلام کی سرفرازی کا باعث بنتا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر معاشرتی اصلاح کے لیے اہم ہیں، جو کہ برائیوں کی روک تھام اور اچھائی کی ترویج میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
قصاص اور حدود شرعیہ کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ معاشرتی انصاف قائم رہے اور خونریزی کا انسداد ہو۔ شراب خوری اور چوری سے پرہیز عقل کی حفاظت اور پاکیزگی کا باعث بنتا ہے۔ زنا اور اغلام کے ترک سے نسل کی حفاظت کی جاتی ہے۔
آخر میں، گواہی، جھوٹ سے علیحدگی، قیامِ امن، امانتوں کی حفاظت اور اطاعت کے ذریعے امام علی (ع) نے اسلامی معاشرت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ سب فرائض انسان کو ایک بہتر معاشرہ بنانے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
