حکمت (270) میں بیان کیا گیا ہے کہ جب عمر ابن خطاب کے سامنے خانہ کعبہ کے زیورات کا ذکر ہوا تو کچھ لوگوں نے یہ تجویز دی کہ اگر ان زیورات کو لے کر مسلمانوں کے لشکر پر صرف کیا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہوگا۔ اس وقت عمر نے اس معاملے میں امیر المومنین علیہ السلام سے مشورہ کیا۔ آپ نے فرمایا کہ قرآن مجید کی نازل ہونے کے وقت چار قسم کے اموال تھے: ایک مسلمانوں کا ذاتی مال، دوسرا مال غنیمت، تیسرا مال خمس، اور چوتھا زکوة و صدقات۔ آپ نے واضح کیا کہ خانہ کعبہ کے زیورات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مقرر کردہ حالت میں رہنے چاہئیں۔ عمر نے آپ کی بات کو تسلیم کیا اور کہا کہ اگر آپ نہ ہوتے تو ہم رسوا ہو جاتے۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی طرف سے مقرر کردہ چیزوں کا احترام کرنا چاہیے۔ خانہ کعبہ کے زیورات کی مثال ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ کچھ چیزیں مخصوص مقاصد کے لیے ہیں اور ان کا استعمال ان ہی حدود میں ہونا چاہیے۔ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ قیادت میں مشورہ دینا اور سنجیدگی سے فیصلے کرنا کتنا اہم ہے۔
امیر المومنین علیہ السلام کا یہ جواب ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دین میں حکمت اور بصیرت سے کام لینا ضروری ہے۔ یہ ایک ایسی تعلیم ہے جو ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ مالیات کی تقسیم اور ان کے استعمال میں اللہ کی رضا کو ہمیشہ مقدم رکھنا چاہیے۔ اس طرح کی حکمت عملی ہمیں معاشرتی انصاف کی طرف بھی لے جاتی ہے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں ہر چیز کا استعمال اللہ کی رضا کے مطابق کرنا چاہیے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کچھ چیزیں مقدس ہیں اور ان کی حیثیت کو سمجھنا اور ان کا احترام کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
