حکمت (269) میں امام علی علیہ السلام نے دنیا میں کام کرنے والوں کی دو اقسام کی وضاحت کی ہے۔ پہلی قسم وہ ہے جو دنیا کے لئے سرگرم عمل رہتا ہے اور آخرت کی فکر نہیں کرتا۔ یہ لوگ اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے فقر و فاقہ کا خوف رکھتے ہیں اور اپنی تنگدستی میں مطمئن رہتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد دوسروں کے فائدے میں صرف کرنا ہوتا ہے، جو کہ ایک نیک عمل ہے، لیکن یہ عمل ان کی آخرت کو متاثر کر سکتا ہے۔
دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو دنیا میں رہ کر آخرت کے لئے عمل کرتے ہیں۔ یہ لوگ دنیا کی تگ و دو کے بغیر بھی دنیا حاصل کر لیتے ہیں، کیونکہ ان کی نیت صحیح ہوتی ہے اور وہ اللہ کی رضا کے لئے کام کرتے ہیں۔ اس طرح، وہ دونوں جہانوں کے مالک بن جاتے ہیں۔ یہ امام علی کا پیغام ہے کہ اگر ہم دنیا میں رہ کر آخرت کی فکر کریں تو اللہ ہمیں دونوں چیزیں عطا فرمائے گا۔
اس حکمت میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو اپنی نیت کو درست رکھنا چاہئے۔ اگر نیت اللہ کی رضا کے لئے ہو تو دنیا بھی ملے گی اور آخرت بھی سنورے گی۔ امام علی علیہ السلام کی یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دنیا کی عیش و عشرت کے پیچھے بھاگنے کی بجائے ہمیں اپنے اعمال کو آخرت کی کامیابی کے لئے ترتیب دینا چاہئے۔
یہ حکمت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اللہ کے نزدیک باوقار ہونے کا راز نیک اعمال اور صحیح نیت میں ہے۔ جو شخص اللہ سے کچھ نہیں مانگتا، وہ دراصل اللہ کی رحمت کا مستحق ہوتا ہے۔ اس طرح، یہ حکمت ہمیں اپنے اعمال کے بارے میں سوچنے اور اپنی نیتوں کو صحیح کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔
