یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی ایک عمیق بصیرت کی عکاسی کرتی ہے جو انسانی نفسیات اور زندگی کی حقیقتوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس حکمت میں دو قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے: ایک وہ جو جلدی موت کا سامنا کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو زندگی کی مہلت پاتے ہیں۔ جلدی موت کا سامنا کرنے والے لوگ اپنی زندگی کی قیمتی لمحات کی قدر کرتے ہیں اور مہلت کا طلبگار ہوتے ہیں، جبکہ زندگی کی مہلت پانے والے لوگ عموماً ٹال مٹول کرتے ہیں۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کی قیمتی لمحات کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی زندگی کے ہر لمحے کو بہتر بنانے کی کوشش کرے اور اپنی نیتوں کو خالص رکھے۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ موت کا وقت کبھی بھی آ سکتا ہے، اس لیے ہمیں ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔
اس حکمت کے ذریعے امام علی (علیہ السلام) ہمیں یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ہمیں اپنی زندگی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اپنی غلطیوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی نیتوں کی صفائی اور اعمال کی بہتری کی کوشش کرنی چاہیے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ انسان کو ہر دن کو ایک نئے موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے اور اپنی زندگی کی بہتری کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہم اپنی زندگی کی مہلت کو ضائع کرتے ہیں تو ہم اپنی آخرت کے لیے نقصان اٹھاتے ہیں۔
