حکمت (288) میں امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ "اللہ جس بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کر دیتا ہے۔" یہ حکمت علم کی اہمیت اور اس کی کمی کے اثرات پر روشنی ڈالتی ہے۔ علم انسان کی شخصیت، کردار اور اس کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔
اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام کی زندگی میں علم کی بہت بڑی اہمیت تھی۔ وہ خود ایک عالم اور فاضل شخصیت تھے اور انہوں نے ہمیشہ علم کو ترقی دینے کی کوشش کی۔ اس دور میں علم کی کمی یا فقدان کو ذلت کی علامت سمجھا جاتا تھا، کیونکہ علم انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے اور اس کی فطرت میں بہتری لاتا ہے۔
اس حکمت میں کلیدی جملہ یہ ہے کہ علم کی کمی انسان کو ذلیل کر سکتی ہے۔ جب کوئی شخص علم سے محروم ہوتا ہے تو وہ صحیح فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ زندگی کے مختلف چیلنجز کا سامنا نہیں کر پاتا۔ اس کی زندگی میں بے راہ روی، غلط فیصلے اور ناکامی کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔
اخلاقی اور روحانی طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ علم انسان کو نہ صرف ذاتی ترقی کی راہ دکھاتا ہے بلکہ اس کی معاشرتی حیثیت بھی بلند کرتا ہے۔ علم کی روشنی میں انسان اپنی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ایک مثال بن سکتا ہے۔
عملی طور پر، ہمیں اس حکمت کو اپنے روزمرہ کے معاملات میں اپنانا چاہئے۔ علم کی طلب میں کوشش کرنا، کتابیں پڑھنا، علمائے کرام سے سیکھنا اور مختلف موضوعات پر غور و فکر کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ علم کی روشنی میں ہم اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔
